کرنسی میں مسلسل کمی ،ایران میں چھ سال بعد سب سے بڑا حکومت مخالف احتجاج

تہران کے گرینڈ بازار میں منعقد مظاہروں میں تاجربھی شامل ،دکانیں بند،مرکزی بنک کی نئے اقدامات کی یقین دھانی

منگل جون 11:50

کرنسی میں مسلسل کمی ،ایران میں چھ سال بعد سب سے بڑا حکومت مخالف احتجاج
تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) ایران کے دارالحکومت تہران میں ہزاروں افراد ایک بار پھر بڑھتی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی پر حکومت مخالف احتجاج کر رہے ہیں۔تہران کے مرکزی بازار میں جاری ہڑتال کے بعد ان مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو ایک غیرمعمولی بات ہے۔دوسری جانب سینٹرل بینک آف ایران کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی ریال کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے نئے اقدامات کرے گا۔

ایرانی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ایران شام اور دیگر ممالک میں اپنی مداخلت ختم کرے اور اپنے ملک کے اندر جاری معاشی بحران پر توجہ دے۔ ان مظاہروں پر قابو پانے کے بعد انھیں معیشت کے حوالے سے شکایات تک محدود کیا گیا۔تہران کے گرینڈ بازار میں ہونے والے ان مظاہروں میں تاجروں نے بھی حصہ لیا، دوکانیں بند کر دی گئیں اور ہزاروں افراد دارالحکومت کی گلیوں میں نکل آئے۔

(جاری ہے)

جیسے ہی مظاہرین نے پارلیمان کی جانب رخ کیا تو انھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔واضح رہے کے ایران میں رواں سال کے آغاز پر عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف بھی احتجاج کیا گیا تھا جسے سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد سب سے بڑے عوامی احتجاج کے طور پر دیکھا گیا تھا۔