مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو قید کی سزا ہو گی

نواز شریف واپس بھی آئیں گے اور اپنی سزا بھی بھگتیں گے لیکن فی الحال الیکشن ان کی ترجیح نہیں ہے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 11:50

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو قید کی سزا ہو گی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 جون 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے اینکر کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کے لندن میں قیام سے کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں، کہ شاید کوئی ڈیل ہو گئی ہے اور اس ڈیل کے تحت اب نواز شریف اور مریم نواز باہر بیٹھ گئے ہیں اور اب وہ شہباز شریف کو ہی الیکشن لڑنے دیں گے۔یہی نہیں بلکہ نواز شریف بھی اب اس بات کو مان گئے ہیں۔

کیا واقعی ایسی کوئی ڈیل ہو گئی ہے؟ جس پر معروف صحافی عارف نظامی نے کہا کہ ایک بات تو سچ ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف تاحیات نا اہل ہیں، وہ نہ ہی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں اورقومی اسمبلی کے رکن بھی نہیں بن سکتے ، دوسری بات یہ کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف اس وقت اپنی والدہ کے پاس ہیں اوران کی والدہ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے کہ وہ موت و حیات کی کشمکش میں ہیں اسی لیے نواز شریف اور مریم نواز کے لیے انتخابات پہلی ترجیح نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

عارف نظامی نے کہا کہ جہاں تک میری اطلاع ہے یہی ایجنڈا اپنایا جا رہا ہے کہ پہلے کسی بھی کیس کی کارروائی اور فیصلہ سنانے میں عدالتیں دس دس سال لگاتی تھیں ، اور اب ایسا نہیں ہو رہا، کئی کیسز ابھی تک زیر سماعت ہیں، لیکن چیف جسٹس بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ، ان کی توجہ بھی باقی معاملات کی طرف ہی ہے۔عارف نظامی نے کہا کہ جس انداز سے شریف خاندان کے کیسز کی کارروائی ہوئی ہے احتساب عدالت سمری عدالت لگ رہی ہے ۔

یہ تو طے ہے کہ فی الوقت کوئی ڈیل نہیں ہوئی، اور نواز شریف کو یقیناً سزا ہو گی اور وہ قید کی سزا ہو گی جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز کے ساتھ بھی اسی قسم کا سلوک ہو گا۔ جہاں تک نواز شریف کے واپس نہ آنے کا سوال ہے تو نواز شریف وطن واپس بھی آئیں گے۔ لیکن یہ بات صحیح ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو عام انتخابات 2018ء سے الگ کر لیا ہے۔ اور اس بات کو کسی قسم کی ڈیل کا نام دینا قبل از وقت ہے۔