ٹکٹس کی تقسیم پر مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات

مریم نواز کو الیکشن ہروانے کی تیاریاں ، قریبی ساتھیوں نے نواز شریف کو خبردار کردیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 12:10

ٹکٹس کی تقسیم پر مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 جون 2018ء) ::نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی رانا عظیم نے کہا کہ مریم نواز کو پہلے این اے 127 سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد یہ فیصلہ تبدیل کر کے مریم نواز کو این اے 125 سے الیکشن لڑوانے کا فیصلہ کیا گیا اور اب مریم نواز کو این اے 125 سے بھی الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا ہے۔ اور انہیں کہا جا رہا ہے کہ ابھی دیکھتے ہیں فیصلہ کرتے ہیں کہ مریم نواز کو کس حلقے سے الیکشن لڑوانا ہے۔

کیونکہ این اے 125میں مسلم لیگ ن کےا ندر ہی گروپنگ ہو چکی ہے۔ اتوار کو کارکنان نے وہاں ایک بڑا جلوس نکالا۔ جلوس میں شامل کارکنوں کا کہنا ہے اگر بلال یاسین کو ٹکٹ دیا اور اس کے ساتھ مریم نواز کو بھی ٹکٹ جاری کیا گیا تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔

(جاری ہے)

اب مسلم لیگ ن کی کوشش ہے کہ مریم نواز کے لیے کوئی ایسا حلقہ ڈھونڈا جائے جہاں سے مریم نواز بآسانی جیت سکیں،اس کے لیے ان کے پاس ایک ہی حلقہ این اے 127 موجود ہے۔

جہاں سے ملک پرویز کو ٹکٹ دیا گیا تھا لیکن اب یہ لوگ چاہ رہے ہیں کہ دوبارہ سے ملک پرویز کی جگہ پر مریم نواز کو لے جائیں۔ کیونکہ ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق نواز شریف کو ان کے قریبی ساتھیوں نے، جو نواز شریف کے بیانیے کو لے کر آگے جاتے تھے، کہا ہے کہ میاں صاحب آپ کا پاکستانی سیاست سے رول ختم ہوتا جا رہا ہے،آپ لاہور سے ملک سیف الملوک کھوکھر کے بیٹے کو ٹکٹ دے کر گئے تھے لیکن آج وہاں شہباز شریف نے ٹکٹ تبدیل کر دیا ہے اور شبیر کھوکھر کو ٹکٹ دے دیا ہے۔

لاہور میں یہ صورتحال ہے کہ آپ کی سیاست تو ختم ہوچکی ہے، مریم نواز کو بھی الیکشن ہروا دیا جائے گا، نواز شریف کے قریبی ساتھیوں نے انہیں یہ بھی بتایا ہے کہ جناب شہباز شریف نے کراچی سے انتخابی مہم شروع کی ہے اور اس پوری مہم میں آپ کے بیانیے کا ایک جگہ بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اپنی بیٹی کو الیکشن میں آگے لے کر آئیں، اپنے گروپ کو آگے لے کر آئیں اور کوئی ایسا حلقہ منتخب کریں جہاں سے آپ کی بیٹی جیت سکے ۔

لاہور میں یہ صورتحال ہے کہ ہر حلقے کے اندر باقاعدہ پھڈا چل رہا ہے اور ن لیگی کارکنان ن لیگی کارکنان کے ہی سامنے کھڑے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق قائد مسلم لیگ ن نوازشریف اور پارٹی صدر شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں نواز شریف نے جہاں شہباز شریف کو کراچی سے الیکشن مہم شروع کرنے پر مبارکباد دی وہیں انہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آ پ کی الیکشن مہم کے آغاز میں ہمارا بیانیہ کہاں تھا ؟ اور یہ جو مائنس والا پراپیگنڈہ ہو رہا ہے اس تاثر کو ختم کیا جائے ۔