پیپلز پارٹی کا منشور تیار ،ْ بلاول بھٹو زر داری (کل)اعلان کرینگے

منشورکی تیاری میں بلاول بھٹو نے خصوصی دلچسپی لی ،ْاہم امورمنشورمیں شامل کرانے کی نگرانی بھی کی زراعت، توانائی، صنعتی ترقی، آبی ذخائرکی تعمیر، روزگار کی فراہمی اور خواتین کی ترقی اولین ترجیحات ہوں گی ،ْذرائع انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے واضح حکمت عملی بھی انتخابی وعدوں کا حصہ ہوگی

منگل جون 12:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) پیپلز پارٹی نے عام انتخابات کیلئے پیپلزپارٹی کا دسواں انتخابی منشور تیار کرلیاہے ،ْ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری 28 جون کو انتخابی منشور کا اعلان کریں گے۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کا یہ دسواں اور بلاول بھٹو زرداری کا یہ پہلا انتخابی منشور ہوگا، پیپلزپارٹی کا پہلا منشور 1970ء کے انتخابات میں جاری کیا گیا۔

اس منشورکی تیاری میں بلاول بھٹو نے خصوصی دلچسپی لی اوراہم امورمنشورمیں شامل کرانے کی نگرانی بھی کی۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی زیرصدارت منشورکمیٹی کے اجلاس میں عام انتخابات 2018ء کیلئے پیپلزپارٹی کے منشور کوحتمی شکل دے دی گئی ہے اور28 جون کوبلاول بھٹو زرداری پیپلزپارٹی کا دسواں اوراپنی قیادت میں پیپلزپارٹی کا پہلا انتخابی منشورجاری کریں گے۔

(جاری ہے)

تحریک انصاف کے 11نکات کے اعلان اور پہلے ایک سودن کا پروگرام دیے جانے کے بعد پیپلزپارٹی نے انتخابی منشور کی تیاری کا عمل تیز کر دیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے انتخابی منشور میں زراعت، توانائی، صنعتی ترقی، آبی ذخائرکی تعمیر، روزگار کی فراہمی اور خواتین کی ترقی اولین ترجیحات ہوں گی جبکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے واضح حکمت عملی بھی انتخابی وعدوں کا حصہ ہوگی۔

علاوہ ازیں خارجہ و داخلہ پالیسی میں اہم تبدیلوں کے ساتھ اسے بہتر بنانا بھی پیپلز پارٹی کے 2018ء کے انتخابی منشور کے اہم نکات میں شامل ہو گا۔منشور میں تعلیم و صحت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات، بیروزگاری کا خاتمہ اولین ترجیحات ہوں گی جبکہ روزگارکی فراہمی کیلئے سرکاری اورنجی شعبے پربھی فوکس کیا جائے گا۔نظام عدل میں اصلاحات، احتساب کے نظام کو شفاف بنانا بھی انتخابی منشور کا حصہ ہو گا، بین الصوبائی ہم آہنگی، جنوبی پنجاب صوبے کا قیام بھی پی پی کا انتخابی وعدہ ہوگا ،ْاسی طرح مالی وسائل کی مساوی تقسیم، قدرتی وسائل پر اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کا حق یقینی بنانا بھی منشور کا حصہ ہو گا۔

منشور میں چھوٹے صوبوں کی محرومیاں ختم کرنا اور دیہی آبادی کو شہروں کے برابر لانے کا بھی پروگرام اورمنصوبہ شامل ہو گا۔۔بلوچستان کی محرومی ختم کرنے کیلئے سیاسی اور بڑے انتظامی و مالی اقدامات اٹھانے فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرنا بھی انتخابی وعدہ اورمنشورکا حصہ ہوگا ،ْنوجوانوں کو فیصلہ سازی اور اہم امور میں شامل کرنا خواتین اور غیرمسلم آبادیوں اور کمزور طبقات کے حقوق کی حفاظت بھی منشورکا حصہ ہوگی ، جبکہ محنت کشوں کے حقوق کو یقینی بنانا اور صنعتی شعبے میں اصلاحات بھی پی پی پی منشور کا حصہ ہوگا۔

بلاول بھٹو کی ہدایت پرخطے کے ممالک کے ساتھ بہتر، پرامن اور برابری کی بنیاد پر تعلقات پرمبنی پالیسی بھی انتخابی منشور میں شامل ہوگی۔زرعی ٹیوب ویلز کو بجلی مفت، کھاد، زرعی ادویات، بیج اور دیگر اشیاء کیلئے کسان کارڈ کا اجرا ہوگا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں انقلابی اصلاحات کا وعدہ بھی پی پی منشور میں شامل ہوگا۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا منشور، بینظیر بھٹو شہید کے ارادوں کا عکس ہوگا اور پیپلزپارٹی اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے سے دریغ نہیں کرے گی،منشورمیں عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرکے دکھائیں گے۔