حجر اسود کی حفاظت پر چوبیس گھنٹوں میں 24 سیکیورٹی اہلکار مامور،ہرگھنٹے بعد تبدیلی

حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے دو سال میں ایک بار ایک یا دو گھنٹے کے لیے حفاظتی مراحل سے گذارا جاتا ہے،انتظامیہ

منگل جون 12:20

مکہ مکرمہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) غلاف کعبہ سے متصل رکن یمانی اور الملتزم کے درمیان ایک پہرے دار ہمہ وقت چوکس کھڑا رہتا ہے جس کی واحد ذمہ داری حجر اسود کی حفاظت اور زائرین کی حجر اسود کوچومنے کے عمل کی نگرانی کرنا اور انہیں اس عمل کی ادائیگی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حجر اسود کی حفاظت پر چوبیس گھنٹوں میں 24 سیکیورٹی اہلکار مامور ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک اہلکار ایک گھنٹہ تک اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔

حجر اسود کے محافظ کی ذمہ داریوں میں زائرین کی جانب سے مقدس پتھر کو بوسہ دینے کے عمل کی نگرانی کرنا، کمزور، ناتواں، عمر رسیدہ اور معذور معتمرین کی مدد کرنا ہے۔حرم مکی کے ایک سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ہر گھنٹے بعد حجر اسود کے محافظ کی ذمہ داری تبدیل ہوتی ہے اور اس کی جگہ دوسرا چاک وچوبند محافظ ذمہ داری سنبھالتا ہے۔

(جاری ہے)

چونکہ محافظوں کو ہر طرح کے سخت گرم اور سرد موسم اور زائرین کے ھجوم کے ماحول میں مشقت بھری ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے اس لیے حجر اسود کے پہرے دار مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

حجر اسود کی حفاظت پر ایسے اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے جو امن وامان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے بھی ممتاز مقام رکھتے ہیں۔مسجد حرام اور مسجد نبوی کی جنرل پریزیڈنسی ہر نماز سے قبل تطہیر کعبہ کے ساتھ حجر اسود پر خوش بو چھڑکتی ہے۔ مسجد حرام کے فرش اور قالینوں پر بھی چوبیس گھنٹوں کی بنیاد پر خوشبو کا باقاعدگی کے ساتھ چھڑکاؤ کیاجاتا ہے۔

حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے دو سال میں ایک بار ایک یا دو گھنٹے کے لیے حفاظتی مراحل سے گذارا جاتا ہے۔ جہاں کہیں اس کے اندر کسی جگہ کی مرمت کی ضرور ہوتی ہے سے مرمت کی اجاتا ہے۔ تاہم اس کی دیکھ بحال معمول کے مطابق جاری رہتی ہے۔حجر اسود کے گرد چاندہ کا حلقہ سب سے پہلے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے لگایا، اس کے بعد مختلف ادوار میں خلفاء اور دولت اس کے گرد سونے اور چاندے کے حلقے بناتے رہے۔

آل سعود حکومت کیقیام سے قبل آخری بار سطلان محمد رشاد خان نے 1331ھ میں حجر اسود کے سنہری حلقے کا ھدیہ کیا۔ یہ خالص سونے سے تیار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں سنہ 1366ھ میں شاہ عبدالعزیز نے اس کے ایک حصے کی مرمت کرائی جب کہ 1375ھ کو الرشادی حلقہ ہٹا کر اس کی جگہ نیا حلقہ لگایا گیا۔حجر اسود کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ طواف کا آغاز اور اختتام اسی سے ہوتا ہے۔

خانہ کعبہ اور حجر اسود کے درمیان ملتزم ہے جس کی لمبائی دو میٹر ہے جب کہ جنوب مغرب میں رکن کعبہ، رکن الیمانی، جنوب مشرق میں رکن الموازی واقع ہے جہاں سے طواف کا آغاز ہوتا ہے، اسے رکن الیمانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چونکہ دائیں جانب واقع ہے اس لیے اسے رکن یمانی کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نییہاں پر دائیں ہاتھ سے استلام فرمایا۔

متعلقہ عنوان :