مسلم خواتین کو برقینی پہننے کی اجازت ہونا چاہیے،جرمن وزیرخاندانی امور

مکمل جسم ڈھانپ کر تیراکی کی اجازت دینے سے انہیں تیراکی سکھانے میں مدد مل سکتی ہے،بیان

منگل جون 12:20

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) جرمن وزیر برائے خاندانی اٴْمور فرانسیسکا گیفی نے کہاہے کہ اسکولوں میں مسلمان لڑکیوں کو پورا لباس پہن کر تیراکی کرنے کی اجازت ہونا چاہیے، تاکہ وہ تیراکی سیکھ سکیں۔

(جاری ہے)

میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن وزیر برائے خاندانی امور فرانسیسکا گیفی نے ایک بیان میں کہاکہ مسلمان لڑکیوں کو مکمل جسم ڈھانپ کر تیراکی کی اجازت دینے سے انہیں تیراکی سکھانے میں مدد مل سکتی ہے،گیفی نے کہاکہ مکمل جسم ڈھانپنے والا لباس، برقینی، جرمن اسکولوں میں مسلمان لڑکیوں کے بہتر انضمام کی راہ ہم وار کر سکتا ہے۔

اس لباس کی اجازت دے کر انہیں تیراکی کی تربیت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ زیادہ اہم بات بچوں کی دیکھ بھال اور صحت ہے اور اس میں تیراکی شامل ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک جماعت سے تعلق رکھنے والی وزیر برائے خاندانی امور، اس سے قبل برلن کے علاقے نوئے کولن کی میئر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ اس علاقے میں تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔

متعلقہ عنوان :