حوثی ملیشیا نے صنعاء سے اغواء کیے گئے جامعہ صنعا کے پروفیسروں کو جیل منتقل کردیا

پروفیسروں کی حوثی ملیشیا کے چنگل سے رہائی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں،یمنی وزارت تعلیم کا عالمی اداروں سے مطالبہ

منگل جون 12:50

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) یمن میں حوثی ملیشیا نے جامعہ صنعا کے گرفتار کیے گئے پروفیسر وں کو جیل میں منتقل کردیا ہے۔ حوثیوں نے کئی روز پہلے ان پروفیسروں کو کسی الزام کے بغیر اغوا کے بعد زیر حراست رکھا تھا۔ اب انھیں کوئی مقدمہ چلائے بغیر ہی جیل بھیج دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق حوثیوں نے جامعہ صنعا کے چھے پروفیسروں کو دارالحکومت صنعا کے نواح میں ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کیا تھا۔

اس وقت وہ جنوبی شہر عدن میں اپنی تن خواہیں وصول کرنے کے لیے جارہے تھے۔فیکلٹی کے ارکان کو طویل پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ان گرفتار پروفیسروں میں آمنہ یوسف بھی شامل ہیں ۔ حوثیوں نے ان کی بیٹی کو بھی گرفتار کیا تھا۔ تاہم بعد میں انھوں نے پروفیسر آمنہ یوسف کو تو رہا کردیا تھا لیکن ان کی جگہ ملیشیا نے ان کے خاوند فاروق عبدالمالک الحضرمی کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ہے۔

(جاری ہے)

پروفیسر آمنہ یوسف نے اپنے خاوند کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاوند ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں اور انھیں انسولین کا انجیکشن لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاوند پر توکسی قسم کا کوئی الزام بھی نہیں اور حوثیوں نے انھیں بلا جواز ہی گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا ہے۔وزارت نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر ، اقوام متحدہ کے تحت تنظیموں اور بین الاقوامی ریڈ کراس سے مطالبہ کیا کہ وہ جامعہ صنعا کے پروفیسروں کی حوثی ملیشیا کے چنگل سے رہائی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ عنوان :