دو دہائیاں گزرنے کے باوجود فلم انڈسٹری پنجابی فلموں کے ہیروئن صائمہ نور کا متبادل تلاش نہ کر سکی

کھیلوں کی طرح فلموں میں بھی ہمیں سینئرز کا خلا پر کرنے کیلئے نئے ٹیلنٹ کو آگے لانا ہو گا ‘صائمہ نور کی گفتگو

منگل جون 12:50

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) دو دہائیاں گزرنے کے باوجود فلم انڈسٹری پنجابی فلموں کی الڑ مٹیار صائمہ نور کا متبادل تلاش نہ کر سکی۔ تفصیلات کے مطابق فلم انڈسٹری کی سپر سٹار اداکارہ صائمہ نور پچھلی دو دہائیوں سے زیادہ فلم انڈسٹری میں ہیروئن کے رول پر کام کرتی رہی ہیں اور کسی بھی ہدایتکار اور فلمساز نے آنے والے وقتوں میں ان کا متبادل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان فلم انڈسٹری میں صائمہ نور کا کوئی متبادل نظر نہیں آتا ۔

(جاری ہے)

اداکارہ صائمہ نور اپنے دراز قد ہونے کی وجہ سے پنجابی فلموں کی مقبول ہیروئن مانی جاتی رہیں جبکہ اس سے قبل انجمن ،آسیہ ،فردوس اور نغمہ بیگم اپنے دراز قد کی وجہ سے پنجابی فلموں میں چھائی رہیں ۔اس حوالے سے صائمہ نور کا کہنا ہے کہ جس طرح کرکٹ ، ہاکی اور دیگر کھیلوںمیں سینئر کھلاڑیوں کے متبادل تیار کیے جاتے ہیں اسی طرح فلموں میں بھی ہمیں اپنے سینئرز کا خلا پر کرنے کے لئے نئے ٹیلنٹ کو آگے لانا ہو گا ورنہ پنجابی فلم انڈسٹری جمود کا شکار ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ میں نے بڑی سکرین پر جتنا بھی کام کیا ہے اس سے مطمئن ہوں اور نئے آنے والے ٹیلنٹ کے لئے ہماری اکیڈمی کے دروازے کھلے ہیں ۔