سرگودھا ‘پانچ افراد کے اندھے مقدمہ قتل کے 2ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے مزید 6 افراد کو گرفتارکرلیا

منگل جون 13:30

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) نواحی چک11شمالی میں ایک خاندان کے پانچ افراد کے اندھے مقدمہ قتل کے 2ملزمان کی نشاندہی پولیس نے مزید 6 افراد کو گرفتار کر کے شامل تفتیش کر لیا گیا۔زرائع کے مطابق واردات میں مقتول محمد طفیل کے بھتیجے اور بھانجہ بھی ملوث ہے ۔ بھلوال کے چک گیارہ شمالی میں 23 جون کی صبع سویرے گھر میں داخل ہو کرفائرنگ کرتے ہوئے سربراہ محمد طفیل اور اسکی بیوی مجیداں بی بی،دو بیٹوں محمد کاشف،ثمر عباس اور بیٹی ثناء بی بی کو قتل ایک بیٹے محمد ارشد کو زخمی کردیا گیا تھا۔

جس سے علاقہ میں خوف وحراس پھیل گیا۔اور پولیس تھانہ صدر بھلوال نے واقعہ پر زیر دفعات 302/324/148/149 ت پ اور 7ATA مقدمہ درج کر لیا اور پولیس حکام نے تفتیش اور ملزمان کے سراغ کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں ۔

(جاری ہے)

واقعہ کا مقدمہ مقتول طفیل کے بیٹے آصف کی مدعیت میں درج ہوا جس میں پانچ نامعلوم کے علاوہ مقتولہ سے محبت کی شادی کرنے والے چک 10 کے عامر آرائیں اور شیش باغ اٹک کے محمد اکبر کو ملوث کیا گیا ۔

پولیس کی خصوصی ٹیم نے اس مقدمہ قتل کی تفتیش کا دائرہ کا وسیع کرتے ہوئے اٹک سے مقتولہ کے مبینہ شوہر عامر کو گرفتار کر کے پوچھ گھچہ کی تو بعض شواہد سے 5 افراد کے قتل کی کڑیا ں مقتول طفیل کے بھتجوں سے ملنے لگیں جو کے و قوعہ کے بعد سے روپوش تھے۔۔پولیس نے سراغ ملنے پر فیصل آباد میں چھا پہ مار کر مقتول طفیل کے دو بھتیجوں دانش ولد محمداسحاق اور اشتیاق ولد مشتاق کو گرفتار کیا تو معاملہ غیرت کے نام پر حل ہو گیا اور ان سے واردات کی کڑیاں کھولتی چلی گئیں ۔

جن کے نشاندہی پر پولیس نے مقتول محمد طفیل کے بھانجھے یعقوب کو ملکوال سے گرفتار کرلیا اور طاہر سمیت چار دیگر افراد کی گرفتاری کی اطلاع ہے ۔۔پولیس ابھی تک تمام حقائق اور معلومات کو خفیہ رکھے ہوئے ہیں تاہم پولیس نے قاتلوں کی گرفتاری کے حوالہ سے اہم پیش رفت کی تصدیق کی ہے مگر اس سلسلہ میں کچھ بتلانے سے گریزاں ہے۔ڈرائع کے مطابق ملزمان نے طفیل کی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا پروگرام بنایا تھا جس نے لو میرج کی اور پھر گھر لوٹ آئی ۔

ملزمان نے مبینہ طور پر قبرستان چک گیارہ میں ڈیرہ نشیئاں والا پر اکٹھے ہو ئے اور شراب پی کر طفیل کے گھر داخل ہوئیموجود سبھی افراد پر فائرنگ کر دی جس میں پانچ افراد قتل ہوئے جبکہ طفیل کا بیٹا محمد ارشد شدید زخمی ہوا۔۔پولیس نے گرفتاری اور اہم پیش رفت سے اعلی حکام کو اگاہ کر دیاہے اور مزید تفتیش کی جا رہی ہے جو مکمل ہونے پر ضلعی پولیس حکام باضابطہ پریس کانفرنس میں تمام حقائق اور ملزمان کے اعتراف جرم سمیت پوشیدہ معلومات کو بے نقاب کریں گے۔