اپیلٹ ٹریبونل نے شاہد خاقان عباسی کو این اے 53 سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی

تین بار ملک کا وزیراعظم رہنے والے کی ایک سو سے زیادہ پیشیاں ہوچکی ہیں، نواز شریف بھاگے نہیں، وہ جلد واپس آ جائیں گے، کاغذات نامزدگی میں اثاثہ جات کی مالیت ان کی خرید کے وقت کی ظاہر کی جاتی ہے، سابق وزیر اعظم

منگل جون 13:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) اپیلٹ ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ شاہد خاقان عباسی نے اس موقع پر کہا ہے کہ وہ بھرپورطریقے سے انتخابات میں حصہ لیںگے اور مسلم لیگ (ن) کامیابی حاصل کرے گی۔

منگل کو ایپلٹ ٹریبونل اسلام آباد میں ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے فیصلے کے خلاف ان کی عذرداری کی سماعت کی گئی جس کے بعد ایپلٹ ٹریبونل کی جانب سے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ۔

(جاری ہے)

بعد ازاں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ اپنے حلقے کے لوگوں کی خدمت کی جس کو ریٹرنگ افسر نے غلط سمجھا جب کہ عمران خان نے شق خالی چھوڑ کر ٹھیک کیا کیونکہ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ این اے 59 سے ہمارے امیدوار کو نیب نے گرفتار کیا جو انتہائی تشویشناک ہے، میری نگراں حکومت اور نیب سے گزارش ہے کہ قمر الاسلام کو چھوڑ دیا جائے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ قبل از انتخابات دھاندلی نہیں تو کیا ہے، نیب کو خرابی صرف مسلم لیگ (ن) میں ہی نظر آرہی ہے، تین بار ملک کا وزیراعظم رہنے والے کی ایک سو سے زیادہ پیشیاں ہوچکی ہیں، نیب کی عدالت سے کبھی نواز شریف کو انصاف نہیں مل سکتا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف بھاگے نہیں ، وہ جلد واپس آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں اثاثہ جات کی مالیت ان کی خرید کے وقت کی ظاہر کی جاتی ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ این اے 59 میں چوہدری نثار کی ہمدردیاں بھی اپنی جماعت کے ساتھ ہوں گی۔