گوادر بندرگاہ کی ترقی سے متعلق مسائل کے حل کے لئے جامع اور ٹھوس تجاویز پیش کی جائیں

نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی وزارت سمندری امور کو ہدایت

منگل جون 13:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے وزارت سمندری امور کو ہدایت کی ہے کہ گوادر بندرگاہ کی ترقی سے متعلق مسائل کے حل کے لئے جامع اور ٹھوس تجاویز پیش کی جائیں۔ انہوں نے یہ ہدایت منگل کو وزیراعظم آفس میں وزارت میری ٹائم افیئرز، اس کے محکموں اور خودمختار اداروں کے امور کار کے بارے میں بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے دی۔

وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز عبدالله حسین ہارون، سیکرٹری میری ٹائم افیئرز ممتاز علی شاہ، وزیراعظم کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، چیئرمین پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن رضوان احمد، چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی اسد رفیع چندنا، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین خان جمیدنی اور سینئر سرکاری حکام نے بریفنگ میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

سیکریٹری میری ٹائم افیئرز نے وزارت میری ٹائم افیئرز، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی اور اپنی وزارت کے ماتحت دیگر اداروں کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ کے پی ٹی نے 2017-18ء کے دوران 4341 ملین روپے منافع کمایا۔ اسی طرح پورٹ قاسم نے بھی 2016-17ء اور 2017-18ء کے دوران بالترتیب 4442 ملین روپے اور 5870 ملین روپے کمائے۔ گوادر بندرگاہ اور گوادر فری زون ایریا کی ترقی کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری میری ٹائم افیئرز نے بندرگاہ کی ترقی کیلئے پیش کردہ مختلف مراعات کو اجاگر کیا۔

انہوں نے بجلی سے متعلق اور پینے کے پانی کی دستیابی کے بارے میں بعض مسائل کا بھی ذکر کیا جن کی وجہ سے گوادر کی تیز تر ترقی میں رکاوٹ ہے۔ وزیراعظم نے وزارت اور اس کے مختلف اداروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزارت کو گوادر کی ترقی سے متعلق مسائل کے حل اور ماہی پروری کے وسائل کے تیزی سے ضیاع کی روک تھام کے لئے جامع اور ٹھوس تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔