سپریم کورٹ نے سابق رکن اسمبلی نذیرجٹ کی تاحیات نااہلی کے خلاف نظر ثانی اپیل خارج کردی

آرٹیکل باسٹھ ون ایف میں تاحیات نااہلی کی مدت کا تعین کردیا ہے ،نذیر جٹ جعلی ڈگری پرصادق اورآمین نہیں ،چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

منگل جون 13:40

ْ اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) سپریم کورٹ نے بورے والا سے سابق رکن اسمبلی نذیرجٹ کی تاحیات نااہلی کے خلاف نظر ثانی اپیل خارج کردی ،،چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت نے آرٹیکل باسٹھ ون ایف میں تاحیات نااہلی کی مدت کا تعین کردیا ہے ،نذیر جٹ جعلی ڈگری پرغیرصادق اورغیرآمین قرارپائے ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بورے والا سے سابق رکن قومی اسمبلی نذیرجٹ کی نااہلی کے خلاف نظرثانی اپیل کی سماعت کی ، وکیل نذیرجٹ نے عدالت میں موقف اپنایا کہ موکل کیخلاف غلط بیانی کا کوئی ڈیکلریشن موجود نہیں نزیدجٹ نے اسمبلی رکنیت سے استعفی دیدیا تھا سپریم کورٹ نے جمشید دستی کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جعلی ڈگری پرعدلیہ سے کئی ارکان نااہل ہوئے عدالت نے آرٹیکل باسٹھ ون ایف میں تاحیات نااہلی کی مدت کا تعین کردیا ، نذیر جٹ جعلی ڈگری پرغیرصادق اورغیرآمین قرارپائے متعلقہ عدالت کا واضح فیصلہ موجود ہے وکیل نے کہاکہ نذیر جٹ کیخلاف ڈیکلریشن کے بغیرباسٹھ ون ایف لگایا گیا چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نذیر جٹ اپنی ڈگری کو درست ثابت نہیں کرسکے سپریم کورٹ کا فیصلہ ڈیکلریشن ہی ہوتا ہے سپریم کورٹ نے سابق رکن اسمبلی نذیرجٹ کی نااہلی کا فیصلہ برقراررکھتے ہوئے نظرثانی کی اپیل خارج کردی