سعودی عرب:دُنیا بھر کے میڈیا نے سعودی خواتین کی ڈرائیونگ کو غیر معمولی کوریج دی

اس پیش رفت کو خطے میں سماجی اور سیاسی بیداری کا پیش خیمہ قرار دے دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 14:54

سعودی عرب:دُنیا بھر کے میڈیا نے سعودی خواتین کی ڈرائیونگ کو غیر معمولی ..
ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26جُون 2018ء) 24 جُون 2018ء کو سعودی خواتین کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کی خبروں کو دُنیا بھر کے میڈیا نے نمایاں کوریج دی ہے۔ ریاض‘ جدہ اور دمام میں خواتین کی کاروں میں سوار ہونے اور ڈرائیو کرنے کے مناظر کو فلم بند کرنے کے لیے اخباری رپورٹرز سبقت لے جانے کے چکر میں تھے۔ میڈیا کمنٹیٹرز تجزیئے پیش کرتے نظر آئے کہ خواتین کی ڈرائیونگ پر سے پابندی ہٹنے کے بعد سعودی عرب اور خطے کے دیگر عرب ممالک پرا س کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

لندن کے مشہور اخبار ’دی گارڈین‘ نے سُرخی جمائی ’’میں خود کو ایک آزاد پنچھی کی طرح محسوس کر رہی ہوں۔۔۔ سعودی خواتین ڈرائیونگ پر سے پابندی اُٹھنے کا جشن مناتے ہوئے‘‘۔ جبکہ ایک اور برطانوی اخبار ’انڈیپینڈنٹ ‘ کی سُرخی تھی ’’اب ہر چیز ایک ایڈونچر کی طرح محسوس ہو رہی ہے: سعودی خواتین پابندی اُٹھنے کے بعد ڈرائیونگ کی آزادی کی خوشی منا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘ جبکہ ٹائم میگزین کی جانب سے سعودی عرب میں کریم کی جانب سے بطور ڈرائیوز بھرتی کی جانے والی خواتین کے پہلے گروپ سے انٹرویو شائع کیا گیا۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی جانب سے اپنی اشاعت میں ڈرائیونگ کی پابندی اُٹھنے کے بعد سعودی خواتین کے مختصر انٹرویوز شامل کئے گئے‘ جن میں اُن سے یہ بھی دریافت کیا گیا تھا کہ وہ خواتین کے حقوق کی مکمل بحالی کے لیے اور کن اصلاحات کو ضروری خیال کرتی ہیں۔

‘‘ اخبار ’دی اکانومسٹ‘ نے ڈرائیونگ پر پابندی ہٹنے کے موقع کی مناسبت سے سعودی عرب کے بارے میں ایک خصوصی رپورٹ شائع کی۔ ’بلوم برگ‘ نے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ہٹنے کے حوالے سے اپنی خصوصی اشاعت میں اس فیصلے سے سعودی معیشت پر اثر انداز ہونے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ڈرائیونگ کے باعث 2030ء تک مُلک کی معیشت میں 90 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ہو گا۔ ’لا گاردیا‘ نے اپنی اشاعت میں لکھا کہ خواتین کی ڈرائیونگ سماج اور خطے کو اعتدال پسندی کی جانب گامزن کرنے کے وسیع تر عمل کا ایک جُزو ہے‘ اس سے نہ صرف سعودی عرب‘ خلیج اور اسلامی دُنیا میں سیاسی بیداری میں اضافہ ہو گا بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں بھی مثبت تبدیلیاں رُونما ہوں گی۔