قومی ٹیم کے کھلاڑی عمر اکمل کوضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کڑی کا امکان

آئی سی سی ضابطہ اخلاق کے تحت کسی پیشکش کو رپورٹ نہ کرنا اور غلط بیانی کرنا سنگین نوعیت کا جرم ہے ،ْرپورٹ

منگل جون 15:14

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) قومی ٹیم کے کھلاڑی عمر اکمل کوضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کڑی سزاہوسکتی ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کرکٹر عمر اکمل نے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کو توڑا ہے اس لیے انہیں قانون کی خلاف ورزی پر کڑی سز اکا سامنا کرنا پڑیگا ،ْعمر اکمل نے انٹرنیشنل کرکٹ میں سٹے بازوں کی پیشکش کا اعتراف کیا تھا اس لیے ان پر پی سی بی کا نہیں آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ لاگو ہوتا ہے۔

آئی سی سی قوانین کے تحت یہ سنجیدہ نوعیت کی خلاف ورزی ہے۔ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن قوانین کے تحت اس جرم کی کم سے کم سزا چھ ماہ ہے۔آئی سی سی ضابطہ اخلاق کے تحت کسی پیشکش کو رپورٹ نہ کرنا اور غلط بیانی کرنا سنگین نوعیت کا جرم ہے۔عمر اکمل نے ایک روز پاکستان کرکٹ بورڈ اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ کرنل (ر) اعظم کے سامنے پیش ہوکر ڈھائی گھنٹے مختلف سوالات کے جواب دئیے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے طور پر عمر اکمل سے انٹرویو کررہا ہے چونکہ انہوں نے پاکستان ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہوئے انٹرنیشنل میچز میں فکسنگ کی پیشکش کا اعتراف کیا تھا اس لیے عمر اکمل سے آئی سی سی کے تفتیش کار علیحدہ انٹرویو کریں گے۔عمر اکمل کو انٹرویو کے لیے دبئی طلب کیا جاسکتا ہے یا آئی سی سی تفتیش کار لاہور آکر ان سے بیان ریکارڈ کریں گے اور ممکن ہے کہ آئی سی سی اپنے ضابطہ اخلاق کے تحت کارروائی کریگا۔

عمر اکمل کیس میں معاملہ اس لحاظ سے سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے کہ انہوں نے ان پیشکشوں کو رپورٹ کرنے سے گریز کیا اور ٹیم منیجر نوید اکرم چیمہ بھی لاعلم تھے۔دوسال قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے اس وقت کے کوچ وقار یونس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو تجویز دی تھی کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد پر دو دو سال کی پابندی عائد کرے تاہم بورڈ نے وقار یونس کی تجویز کو نظر انداز کیا اور اب یہ کھلاڑی خود ہی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔