ایران میں 2012 کے بعد سب سے بڑا حکومت مخالف احتجاج

ایران شام اور دیگر ممالک میں اپنی مداخلت ختم کرے اور اپنے ملک کے اندر جاری معاشی بحران پر توجہ دے،مظاہر ین

منگل جون 15:23

تہرا ن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) ایران کے دارالحکومت تہران میں ہزاروں افراد ایک بار پھر بڑھتی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی پر حکومت مخالف احتجاج کر رہے ہیں۔تہران کے مرکزی بازار میں جاری ہڑتال کے بعد ان مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو ایک غیرمعمولی بات ہے۔اس موقع پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ایران شام اور دیگر ممالک میں اپنی مداخلت ختم کرے اور اپنے ملک کے اندر جاری معاشی بحران پر توجہ دے۔

(جاری ہے)

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان مظاہروں پر قابو پانے کے بعد انھیں معیشت کے حوالے سے شکایات تک محدود کیا گیا۔’ایرانی عوام کو مظاہروں کا حق ہے، پرتشدد ہونے کا نہیں‘دوسری جانب سینٹرل بینک آف ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی ریال کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے نئے اقدامات کرے گا۔تہران کے گرینڈ بازار میں ہونے والے ان مظاہروں میں تاجروں نے بھی حصہ لیا، دوکانیں بند کر دی گئیں اور ہزاروں افراد دارالحکومت کی گلیوں میں نکل آئے۔جیسے ہی مظاہرین نے پارلیمان کی جانب رخ کیا تو انھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔خیال رہے کہ یہ سنہ 2012 کے بعد ایران میں ہونے والا سب سے بڑا احتجاج ہے۔

متعلقہ عنوان :