حکمرانوں کی ہٹ دھرمی وادی میں انسانی جانوں کے اتلاف کا باعث ہے سید علی گیلانی

کشمیر کی صورتحال لااینڈ آرڈر نہیں ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے بیان

منگل جون 15:36

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) کل جماعتی حریت کانفرنس ’’گ‘‘ گروپ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے چڈر کو لگام میں شہید ہوئے عسکریت پسندوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس خطے میں جو بھی خون خرابہ اور انسانی زندگیوں کو اتلاف ہورہا ہے اس کے لیتے صرف اور صرف بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی والی پالیسی ذمہ دار ہے اپنے ایک بیان میں انہوں نے دو عام شہریوں کو قتل کرنے اور راست فائرنگ کر کے 3درجن کے لگ بھگ افراد کو زخمی کرنے اور آنکھوں پر پیلٹ فائیر کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کے فاشٹ حکمرانوں او فوجی سربراہوں کی طرف سے آئے دن ان دھمکوں کی عملی جامہ پہنانے کا باضابطہ آغاز ہے جس میں وہ کشمیریوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کے بات کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ آزدی پسند رہنما میر واعظ عمرفاروق محمد یاسین ملک محمد اشرف صحرائی غلام احمد گلزار اور محمد اشرف لایا کو تھانہ اور گھروں میں نظر بند کرنے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے اور ریاستی انتظامیہ نعشوں پر آنسو بہانے اور ماتم کرنے پر بھی پابندی عائد کرتی ہے یہ ریاستی دہشتگردی کا بدترین مظاہرہ ہے اور اس کی نظیر دنیا کے کسی بھی خطے میں ملنا مشکل ہے بیان مین انہوں نے کہا کہ بھارت کے پالیسی ساز اور حکمران جموں کشمیر میں ایک بار پھر1990 جیسی صورتحال پیدا کرکے قتل عام کے ان اقعات کو دہرانا چاہتا ہے جن کا نام سن کر آج بھی انسان کی روح لرز اٹھی ہے وہ لوگوں کو پشت بہ دیوار کررہے ہیں اور طاقت کے بے تحاشا استعمال کرکے انہیں ہر طرح سے بے بس بنایا چاہتے ہیں حریت چیئرمین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکمران اصل میں کشمیریوں کو ظلم جبر اور بربریت کی بنیاد پر اپنی مبنی برحق جدوجہد سے دستبردار کرانا چاہتے ہیں انکاؤنٹر سائٹس سے بہت فاصلے پر لوگ جمع ہو کر نعرے بازی کرتے ہیںتو ان پر راست فائرنگ کر نے کا جواز کہا پیدا ہوتا ہے یہ محض انتقامی کارروائی ہوتی ہے اور حکومتی فورسز مجاہدین کی موجودگی کی سزا عام لوگوں کو دینا چاہتی ہیں انہون نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ کشمیر کی صورتحال کوئی لااینڈ آرڈر کا مسئلہ نہیں ہے ملٹری پاور کے ذریعے سے ماضی میں حل کیا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اس طرح کے رویئے سے کوئی مثبت نتیجہ نکالا جانا ممکن ہے حریت چیئرمین نے دہلی کے ارباب اقتدار کو مشورہ دیا کہ وہ ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے زمینی حقائق کو قبول کریں اور کشمیریوں کے دیرینہ مطالبہ حق خودارادیت کو پورا کرنے کے اپنے وعدے کو نبھائیں(وقار)