کشمیر ی عوام مسئلہ کشمیر کا آئین ہند کے باہر حل چاہتے ہیں عمر عبداللہ

طاقت کی پالیسی یا ملٹری اپروچ کشمیریوں کیخلاف کبھی کامیاب نہیں ہوگا انٹرویو

منگل جون 15:39

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیر وادی میںآزادی ایک مضبوط جذبہ ہے طاقت پر مبنی پالیسی کشمیر میں کبھی کارگرثابت نہیں ہوسکتی ہے اور یہ کہ اسبات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کشمیر کے لوگ مسئلہ کمشیر کا بھارتی آئین کے باہر حل چاہتے ہیں اپنے ایک انٹرویو کے دوران اہم علاقائی میں اسٹریم جماعت نشینل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کیلئے مرکزی حکمران اور سرکاریں ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی کشمیری عوام کیساتھ کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا اور نہ انہوں نے اپنی کہی باتوں کا بھرم رکھا عمر عبداللہ نے کہا کہ نرسمہاراؤ نے آسمان حد ہے کی بات کہہ دی اور پھر کچھ نہیں کیا واجپائی جی نے انسانیت جمہوریت اور کمشیریت کی بات کہی لیکن وہ بھی بھی عملی طور پر کچھ نہیں کرپائے انہوں نے کہا کہ آج کی مرکزی سرکارتو کشمیر مسئلے کے سیاسی پہلو کو ماننے کیلئے ہی تیار نہیں اور مودی سرکار کی نظر ہیں یہ امین قانون اور اقتصادی معاملہ ہے انوہں نے کہا کہ کشمیر مسئلے کے کم سے کم تین پہلوہیں ایک یہ کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تنازعہ ہے دوسرا یہ کہ مرکز اور ریاست کے مابین کئی معاملات حل طلب ہیں اور تیسرا پہلو اندرونی سطح کا ہے جو ریاست کے تین خطوں کمشیر جموں اور لوداخ کے درمیان ہے انہوں نے مودی سرکار کی طاقت پر مبنی کشمیر پالیسی کو بے سود قرار دیتے ہوئے خبر دار دکیا کہ اس قسم کی اپروچ سے کشمیریوں بالخصوص نوجوانوں میں پائی جانیوالی بے گانگی میں تشویشناک طور پر اضافہ ہوا ہے (وقار)