ماہرین زراعت کی کپاس کی چھدرائی کے دوران کمزور اور فالتو پودے نکالنے کی ہدایت

منگل جون 15:51

فیصل آباد۔26 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) ماہرین زراعت نے کہاہے کہ موسمی کپاس سے بھرپور پیداوار کے حصول کیلئے کاشتکارپودوں کی تعداد 23 سی35ہزار فی ایکڑ رکھیں اور اس مقصد کیلئے فصل کی بجائی کے 25 سی30دن کے اندر چھدرائی کا عمل مکمل کرلیں،چھدرائی کے دوران کمزور اور فالتو و بیمار پودے بھی نکا ل دیئے جائیں تاکہ وہ صحت مند پودوں پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔

انہوںنے بتایاکہ پاکستان رقبے اور پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے ۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار موسمی بی ٹی اقسام میں پھول نکلنے کے مرحلہ سے 15ستمبر تک تین بوریاں فی ایکڑ اقساط میں ڈالیںاورزمینوں میں زنک و بوران کی کمی کی صورت میں فصل کو ان کی مقدار ضرور ڈالیں کیونکہ ان کے استعمال سے فصل کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ جڑی بوٹیاں کپاس کی پیداوار میں کمی کا سبب بنتی ہیںکیونکہ یہ جڑی بوٹیاں کپاس کے پودے کی کھاد، خوارک ، روشنی اور پانی حاصل کرتی ہیں جن کی بروقت تلفی بہت ضروری ہے۔ انہوںنے بتایاکہ 50سے 60 دن تک اگر جڑی بوٹیوں سے کپاس کو بچالیا جائے تو اس کے بعد فصل خود بخود ان جڑی بوٹیوں پر کنٹرول حاصل کرلیتی ہے جبکہ اس سلسلہ میں کپاس کی فصل کو گوڈی بھی فائدہ دیتی ہے کیونکہ اس سے بھی جڑی بوٹیاں تلف کرنے میں مدد ملتی ہے۔انہوںنے کاشتکاروںکو مزیدہدایت کی کہ وہ کھیتوں میں بارشوں کے دوران بارشی پانی کو کپاس کی فصل میں کھڑا نہ ہونے دیں کیونکہ اس سے فصل کو سخت نقصان پہنچنے کااحتمال ہے۔

متعلقہ عنوان :