لڑائی کے محاذوں سے واپس چلے ججائیں،یمنی فوج کی حراست میں حوثی قیدی کا پیغام

ْحوثی صرف اپنی قیادت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں،عوام سے کوئی سروکارنہیں،گرفتارجنگجو کا اعتراف

منگل جون 15:59

صنعاء (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) یمن میں سرکاری فوج کی تحویل میں موجود حوثی ملیشیا کے ایک رکن نے اپنے ایک وڈیو پیغام میں حوثی ملیشیا کے جنگجوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ لڑائی کے محاذوں سے واپس چلے جائیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق حوثی قیدی نے یمنی عوام کے خلاف جنگ کے لیے حوثیوں کی جانب سے گمراہی اور دھوکے کی حقیقت کا بھی انکشاف کیا اور باور کرایا کہ حوثی صرف اپنی قیادت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

مذکورہ حوثی جنگجو اور اس کے ساتھی مغربی ساحل کے محاذ سے پکڑے گئے تھے۔یمنی فوج نے اتوار کے روز حوثی ملیشیا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی سب سے بڑی کارروائی انجام دی۔ اس دوران فوج نے 74 حوثی قیدیوں کو ملیشیا کے حوالے کیا جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ اس کے مقابل 40 یمنی شہریوں کو حوثیوں کے قبضے سے واپس لیا گیا۔

(جاری ہے)

یمنی فوج نے مغربی ساحل اور الحدیدہ کے محاذ سے حوثیوں کے سیکڑوں ارکان گرفتار کیے جن میں اکثریت بچوں کی ہے جن کو باغی ملیشیا نے طاقت کے زور پر اپنی لا حاصل جنگ میں جھونک دیا۔

یمن میں انٹرنیشنل پِیس ٹیم کے بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا بچوں کو ان کے سرپرستوں کے علم میں لائے بغیر زبردستی بھرتی کر کے لڑائی کے میدانوں میں جھونک رہی ہے۔اس امر کی تصدیق کے لیے کئی بچوں کے بیانات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے بچوں کے خلاف جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور ضابطوں کے لیے کھلا چیلنج ہے۔ بیان میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی حقوق کی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یمن میں بچوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور مثر اقدامات کرے۔

متعلقہ عنوان :