دینی مدارس ریاست میں گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں‘ اقامتی طلباء کو ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ کی ادائیگی کو محکمہ زکوٰة یقینی بنائے‘ آزاد کشمیر میں فرقہ وارہم آہنگی قابل ستائش ہے‘ علماء کرام انبیاء کرام کے وارث ہیں

جے یو آئی کے امیرو اتحاد تنظیمات مدارس آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری مولانا قاضی محمود الحسن اشرف کا اجتماعات سے خطاب

منگل جون 16:01

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) دینی مدارس ریاست میں گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اقامتی طلباء کو ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ کی ادائیگی کو محکمہ زکوٰة یقینی بنائے۔ آزاد کشمیر میں فرقہ وارہم آہنگی قابل ستائش ہے۔ علماء کرام انبیاء کرام کے وارث ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ؐ ایکٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔

ان خیالات کا اظہار اے جے کے جے یو آئی کے امیرو اتحاد تنظیمات مدارس آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹریمولانا قاضی محمود الحسن اشرف نے مچھیارہ ،برار کوٹ سمیت مختلف مقامات پر منعقدہ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انھوں نے کہا اے جے کے جے یو آئی سواد اعظم اہل سنت والجماعت کی طرف سے گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ساتھ جن آٹھ نکات پر انتخابی اتحاد کیا تھا وزیر اعظم فاروق حیدر خان کی طرف سے پیش رفت ہو رہی ہے تاہم تمام نکات پر عمل درآمد کے لیے وزیر اعظم جے یو آئی کی قیادت کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دیں جس میں جے یو آئی سمیت اتحادی دینی جماعتوںکی قیادت اتحاد تنظیمات مدارس کو بھی شامل کیا جائے ۔

(جاری ہے)

انھوں نے وزیر مذہبی راجہ محمد عبد القیوم خان کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس کی سفارشات پر بھی جلد از جلد عمل درآمد کی بھی مطالبہ کیا ۔. اس موقع پر اتحاد تنظیمات مدارس کی طرف سے پیش کردہ درج ذیل تجاویز اور سفارشات جنہیں وزیر حکومت کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا پر بھی عمل در آمد کا مطالبہ کیا گیا ۔

جس کے مطابق محکمہ امور دینیہ میں دینی مدارس کی تعمیرات کی گرانٹ بحال کرتے ہوئے کم از کم50کروڑ کی جائے۔ آزاد کشمیر میں مسلکی ہم آہنگی کے لئے گزشتہ اجلاس کے فیصلہ جات کو عملدرآمد کے لئے متعلقہ محکمہ جات کو تحریک کی جائے۔ اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ دینی مدارس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اُنہیں مضبوط بنانے کے لئے اتحاد کی مشاورت سے اقدامات کیے جائیں اور مدارس کی رجسٹریشن کی بنیاد پر مدارس کے طلباء کو بورڈ کے امتحانات میں ریگولر طالبعلم کے طور پر شریک کیا جائے۔ تمام اضلاع اور تحصیلوں میں ضلعی اور تحصیل مفتی صاحبان کی تعیناتی اور تقرری کے تقاضے اور ضروریات کو پورا کیا جائے۔ سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں اسلامی اخلاقیات سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ناظرہ قرآن کریم معہ التجوید نصاب کا حصہ بنایا جائے اور میٹرک میں100نمبر ناظرہ قرآن کریم کے رکھے جائیں۔

، آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت نے دینی جماعتوں کے تعاون و اشتراک سے آئین میں ۲۱ویں ترمیم لا کر شمع ختم نبوت اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کر لی ہے۔ تاہم اس ترمیم کی روشنی میں قانون سازی ہونا باقی ہے۔ اس لیے اس پر قانون سازی کی جائے اور ریاست کے تمام مقدار مناصب پر فائز شخصیات کے حلف میں عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت سے وابستگی پاکستان کے مماثل شامل کی جائے اور چھتر ختم نبوت چوک کے ساتھ یادگار ختم نبوت کی تعمیر جلد از جلد کر کے حکومت کی طرف سے منظور کردہ آئینی ترمیم کی رو ح کے مطابق عمل کیا جائے۔

احترام رمضان ایکٹ پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ اُس کی تشہیر بھی کی جائے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں آزاد کشمیر میں بھی احترام رمضان کے حوالہ سے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ آزاد کشمیر میں سیاحوں کی آمد خوش آئند ہے تاہم اسلامی تعلیمات، اخلاقیات اور علاقائی اقدار کے منافی اعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے اور بے حیائی، فحاشی پر مبنی امور پر پابندی لگائی جائے۔ تشہیری بورڈ پر عریاں اورغیر اخلاقی تصاویر پر پابند لگائی جائے۔ محکمہ تعلیم کے مکتب معلمین کے ساتھ وزیر اعظم نے جو وعدہ کیا ہے اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے تمام مکتب معلمین کو مستقل کیا جائے۔