بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں ملوث انتہائی مطلوب دہشتگرد نے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کر دی

اکرام اللہ نے قتل کے منصوبے میں کوئی کردار ادا کرنے اور ملوث ہونے سے انکار کر دیا، ویڈیو پیغام بھی جاری کیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 15:54

بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں ملوث انتہائی مطلوب دہشتگرد نے قتل میں ملوث ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 جون 2018ء) :سابق خاتون وزیرا عظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں طالبا کے جس گروپ کا ہاتھ ہونے اور جس دہشتگرد کے ملوث ہونے کی خبریں عام تھیں اب اس دہشتگرد نے ایک ویڈیو کے ذریعے قتل میں ملوث ہونے کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اکرام اللہ سے متعلق کہاگیا کہ وہ بیک اپ خود کُش بمبار تھا ،جس نے پہلے خود کُش دھماکے میں کم نقصان ہونے کے نتیجے میں خود کو اڑانا تھا لیکن2007ءمیں راولپنڈی میں جائے وقوعہ پر پہلا بم دھماکہ ہوتے ہی بے نظیر بھٹو سمیت بیس لوگ اپنی جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اکرام اللہ چُپ چاپ جائے وقوعہ سے روانہ ہو گیا۔

اکرام اللہ کی اس کیس کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی پہلی ویڈیو بی بی سی کو موصول ہوئی جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ اس ویڈیو کو مشرقی افغانستان میں بنایا گیا جہاں دہشتگرد مقیم ہیں۔

(جاری ہے)

اس ویڈیو میں اکرام اللہ نے بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے یا اس منصوبے سے آگاہ ہونے کی خبروں کی تردید کی۔ اکرام اللہ پاکستان میں کئی کیسز میں خود کُش بمبار کی حیثیت سے نامزد اورانتہائی مطلوب دہشتگرد ہے۔

کچھ طالبان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اب سے پہلے تک اکرام اللہ بڑے فخر سے بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں ملوث ہونے اور اس منصوبے میں اہم کردار ادا کرنے سے متعلق بتاتا رہا ہے۔لیکن گذشتہ برس اکرام اللہ پر اس کے حریف اسلام پسندوں نے افغانستان میں حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اکرام اللہ کے گروہ کے رہنماﺅں نے اسے ویڈیو بنانے اور بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے یا کسی قسم کا کوئی کردار ادا کرنے کی تردید کرنے کا مشورہ دیا۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ پورا پاکستان اور یہاں تک کہ قبائلی علاقوں کے بچے بچے تک کو پتہ تھا کہ بے نظیر قتل کیس میں اکرام اللہ ملوث تھا۔یاد رہے کہ 27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیربھٹو لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آ رہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔

اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بے نظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ اس دھماکے میں بے نظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل اسپتال لے گیا  لیکن بے نظیر بھٹو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئیں۔