منچھر جھیل آلودگی کیس ،

سپریم کورٹ کا سیکرٹری آبپاشی پر اظہار برہمی جھیل پر کتنے فنڈز جاری اور خرچ کیئے گئے بتایا جائے کہ کب تک منچھر جھیل کا پانی قابل استعمال ہوسکے گا،عدالت عظمیٰ

منگل جون 16:32

منچھر جھیل آلودگی کیس ،
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں منچھر جھیل آلودگی کیس کی سماعت ہوئی سماعت کی دوران سیکریٹری آبپاشی جمال مصطفی اور دیگر حکام پیش ہوئے عدالت نے سیکریٹری آبپاشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ 2010 کے سیلاب کا پانی محفوظ ہوتا اگلے دس سال تک ہم اس پانی کو استعمال کرسکتے تھے۔منگل کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں منچھر جھیل آلودگی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری آبپاشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اگر آپ لوگوں نے اب بھی کام نہ کیا تو آپکو بھی جیل بھجوادیں گے کھربوں خرچ کرکے بھی سندھ کے لوگوں کو زہر پلا رہے ہیں سندھ حکومت کے ادارے چاہتے ہیں لوگ ایسے ہی مرتے رہیں اگر حساب مانگ لیں گے تو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا ہوگا بیس سال سے منصوبے چل رہے ہی۔

(جاری ہے)

مگر اب قطرہ پانی صاف نہیں مل رہا نتائج نہ ملے تو سب ذمہ داروں کو جیل بھیجیں گے ترکی والوں نے پورا سمندر صاف کردیا آپ سے کچھ نہیں ہوتا پانی کی آلودگی سے مچھلیاں مر رہی ہیں کچھ عرصے بعد پولٹری کی صنعت بھی ختم ہوجائے گی سندھ میں انسان رجوع کی طرح گھوم رہے ہیں انکی پرواہ کون کرے گا آٹھ سال سے کیا چل رہا ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں اگر بارشیں ہوجائے تو پانی کہاں محفوظ کریں گے اس طرح دنیا بھی آپ پر رحم نہیں کھائے گی سندھ میں لکیر سے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے کیا سندھ میں ایک درخت بھی لگایا گٹر سڑکیں اور نالے صاف کروانا عدالت کا کام ہے عدالت نے سندھ حکومت سے دو ہفتوں میں جامع رپورٹ طلب کرلی بتایا جائے کہ منچھر جھیل پر کتنے فنڈز جاری اور خرچ کیئے گئے بتایا جائے کہ کب تک منچھر جھیل کا پانی قابل استعمال ہوسکے گا۔