نوازشریف کی نیب کی کاروائیوں کیخلاف احتجاج کی ہدایت

نواز شریف کا شہبازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ،نیب کی کارروائیوں اور انتخابی مہم سےمتعلق تبادلہ خیال،نیب کی کاروائیوں کیخلاف سخت حکمت عملی اپنائی جائے۔قائد مسلم لیگ ن نوازشریف کی ہدایت

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل جون 16:23

نوازشریف کی نیب کی کاروائیوں کیخلاف احتجاج کی ہدایت
لندن(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 جون 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے نیب کی کاروائیوں کیخلاف احتجاج کی ہدایت کردی ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن سے پارٹی صدرشہبازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں ن لیگ کےامیدواروں کےخلاف نیب کی کارروائیوں سےمتعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر نوازشریف ن لیگی امیدواروں کیخلاف نیب کی کاروائیوں کیخلاف شدید ردعمل سامنے آگیا ہے۔

نوازشریف نے شہبازشریف کو فون کیا، جس میں انتخابی مہم اور ن لیگی انتخابی امیدواروں کیخلاف نیب کی کاروائیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پارٹی قائد نوازشریف نے شہباز شریف کونیب کی کاروائیوں کیخلاف سخت حکمت عملی اپنانے اور احتجاج کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

(جاری ہے)

نوازشریف نے مختلف حلقوں میں انتخابی امیدواروں سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ نوازشریف کا کہنا ہے کہ الیکشن مہم کے دوران نیب کی کاروائیاں قابل قبول نہیں ہیں۔

انہوں نے اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت سے متعلق بتایا کہ ڈاکٹرز آج بیگم کلثوم نواز کے بارے بریف کریں گے۔جس کے بعد میڈیا کوبریفنگ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت بہتر ہوتے ہی پاکستان واپس آجاؤں گا۔ واضح رہے نیب کی جانب سے ن لیگ کے بعض انتخابی امیدواروں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں۔ نیب لاہور کی ٹیم نے سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے مقابلے میں این اے 59سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈر انجینئر قمر الاسلام راجہ کو راولپنڈی سے گرفتار کیا۔

ان پر صاف پانی کمپنی کے سکینڈل میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا الزام ہے نیب نے ان سے کرپشن سکینڈل میں پوچھ گچھ کرے گی۔ انجینئر قمر الاسلام مسلم لیگ (ن) کے سابق دور میں بھی ایم پی اے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب نے کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) وسیم افضل کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ واضع رہے کہ قمر الاسلام اور وسیم اجمل نے مہنگے داموں فلٹریشن پلانٹس لگانے کی منظوری دی ،قمر الاسلام صاف پانی کمپنی میں پروکیورمنٹ کمیٹی کے سربراہ تھے، ذرائع کے مطابق قمرالاسلام صاف پانی کمپنی کے بورڈز آف ڈائریکٹرز میں شامل تھے ، ذرائع کے مطابق قمرالاسلام پر کرپشن کے کافی الزامات تھے اور گذشتہ دور حکومت میں چوہدری نثار علی خان نے ان کو بطور ایم پی اے فنڈز کے اجراء کی بھی مخالفت کی تھی۔

قمرالاسلام کے خلاف کیس میں پہلے سے بھی انکوائری چل رہی تھی۔ دوسری جانب نیب نے کہا ہے کہ ملزم انجینئر قمر اسلام راجہ پر 84واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا ٹھیکہ غیر قانونی طورپر مہنگے داموں دینے کا الزام ہے۔ تاہم نیب نے قمر اسلام راجہ کوعدالت میں پیش کیا عدالت نے 14روزہ جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا۔