سندھ میں لکیر کے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے اور صوبائی حکومت کے ادارے چاہتے ہیں لوگ مرتے رہیں ،ْسپریم کورٹ

منگل جون 16:50

سندھ میں لکیر کے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے اور صوبائی حکومت کے ادارے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سندھ میں لکیر کے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے اور صوبائی حکومت کے ادارے چاہتے ہیں لوگ مرتے رہیں۔۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں منچھر جھیل آلودگی ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں سیکرٹری آبپاشی جمال مصطفی اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔۔عدالت نے سیکرٹری آبپاشی پر شدید برہمی کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ کام نہیں کیا تو آپ کو بھی جیل بھجوادیں گے، اس پر سیکرٹری نے بتایا کہ منچھر جھیل صاف کررہے ہیں، جلد پیشرفت سامنے آجائے گی۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کھربوں روپے خرچ کرکے بھی سندھ کے لوگوں کو زہرپلا رہے ہیں ،ْسندھ حکومت کے ادارے چاہتے ہیں لوگ اسی طرح مرتے رہیں، اگر حساب مانگ لیں تو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا ہوگا، 20 سال سے منصوبے چل رہے ہیں مگر صاف پانی کا قطرہ نہیں مل سکا، نتائج نہ ملے تو ذمہ داران کو جیل بھیجیں گے۔

(جاری ہے)

معزز جج نے کہا کہ ترکی والوں نے پورا سمندر صاف کردیا ،ْآپ سے کچھ نہیں ہوتا، آلودگی سے مچھلیاں مر رہی ہیں، کچھ عرصے بعد پولٹری کی صنعت بھی ختم ہو جائے گی۔

عدالت کے مطابق سندھ میں انسان ریوڑ کی طرح گھوم رہے ہیں ان کی پرواہ کون کریگا ،ْ 20 سال کا حساب دینا ہوگا ،ْ کہاں کتنا پیسہ خرچ کیا، 8 سال سے کیس چل رہا ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کہ 2010 کیسیلاب کا پانی محفوظ ہوتا تو10 سال استعمال کرتے، اگر بارشیں ہوجائیں تو پانی کہاں محفوظ کریں گے، اس طرح دنیا بھی آپ پر رحم نہیں کھائے گی۔۔عدالت کے مطابق سندھ میں لکیر کے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے ،ْ کیا سندھ حکومت نے کوئی ایک درخت بھی لگایا گٹر، سڑکیں اور نالے صاف کرانا کیا عدالتوں کا کام ہے۔