بینظیر بھٹو قتل ،ْ مطلوبہ حملہ آور کی ویڈیو منظر عام پر ،ْالزام سے انکار

اکرام اللہ مکمل طور پر جھوٹ بول رہا ہے ،ْسابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے اکرام اللہ کے دعوے کی تردید کر دی

منگل جون 16:55

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ایک شدت پسند اکرام اللہ نے حال ہی میں طالبان کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں خود پر لگائے گئے الزام کی تردید کی ہے۔خیال کیا جاتا رہا کہ 2007 دسمبر میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ہونے والے حملے کیلئے اکرام اللہ متبادل خود کش حملہ آور تھے اور اگر پہلا حملہ آور اپنے مشن میں ناکام ہوتا تو اکرام اللہ اس مشن پر جاتے ،ْپاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور ملک کی دو دفعہ منتخب ہونے والی وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور ان کے ساتھ ساتھ 20 افراد بھی اس حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

واقعہ کے 11 سال بعد طالبان کے ایک نئے دھڑے کی جانب سے یہ ویڈیو جاری کی گئی جو کہ بی بی سی نے حاصل کی ہے ،ْ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو مشرقی افغانستان میں بنائی گئی ہے۔

(جاری ہے)

ویڈیو میں اکرام اللہ نے 2007 کے حملے کے بارے میں اپنا پہلا بیان دیا ہے اور اور متعدد بار اس بات کو دہرایا کہ وہ اس کی تیاری میں کسی بھی لمحے ملوث نہیں تھے اور نہ ہی انھیں اس منصوبے کا کوئی علم تھا۔

واضح رہے کہ اکرام اللہ پاکستانی حکام کی جانب سے جاری کی گئی مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں اور عدالتی دستاویزات میں انھیں دوسرا خود کش حملہ آور قرار دیا گیا۔دوسری جانب بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے اکرام اللہ کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ اکرام اللہ مکمل طور پر جھوٹ بول رہا ہے اور کہا کہ اس حملے میں ملوث دوسرے ملزمان نے عدالت میں اس کا نام دوسرے خود کش حملہ آور کی حیثیت سے لیا تھا۔

پاکستان میں شدت پسند گروہوں کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ اکرام اللہ حال ہی میں کچھ عرصے قبل تک بینظیر بھٹو پر کیے جانے والے حملے پر فخر کا اظہار کرتا رہا ہے ،ْتمام پاکستانی طالبان،، حتی کے قبائلی علاقے میں رہنے والے بچوں کو بھی علم ہے کہ اکرام اللہ بینظیر بھٹو پر کیے جانے والے حملے میں ملوث تھا۔