منڈی بہائو ا لدین پی پی آئی کے صدر لیاقت علی رانجھا کی ٹکٹ نہ دینے پر پارٹی قیادت سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست

عدلیہ بحالی تحریک اور پارٹی کی تحریکوں کے دور ان جیلوں میں رہا ،ْضلع اور حلقہ میں میری پوزیشن سب سے بہتر ہے ،ْ میرا سیاسی قتل نہ کیا جائے ،ْ میری پارٹی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے پارٹی ٹکٹ جاری کیا جائے ،ْموجودہ ٹکٹ ہولڈر شاہد نسیم گوندل نے 2013کے الیکشن میں 3200ووٹ حاصل کئے ،ْ مجھے پرویز الٰہی اور (ن)کے امیدوار وں کے مقابلے میں 19000ووٹ ملے ،ْ پارٹی میرٹ پر فیصلہ کرے ،ْ بیان جاری

منگل جون 17:18

اسلام آباد /منڈی بہائو الدین (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) منڈی بہائو ا لدین تحریک انصاف کے ضلعی صدر لیاقت علی رانجھا نے پارلیمانی بورڈ کی جانب سے ٹکٹ نہ دینے پر پارٹی قیادت سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ بحالی تحریک اور پارٹی کی تحریکوں کے دور ان جیلوں میں رہا ،ْضلع اور حلقہ میں میری پوزیشن سب سے بہتر ہے ،ْ میرا سیاسی قتل نہ کیا جائے ،ْ میری پارٹی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے پارٹی ٹکٹ جاری کیا جائے ،ْموجودہ ٹکٹ ہولڈر شاہد نسیم گوندل نے 2013کے الیکشن میں 3200ووٹ حاصل کئے ،ْ مجھے پرویز الٰہی اور (ن)کے امیدوار وں کے مقابلے میں 19000ووٹ ملے ،ْ پارٹی میرٹ پر فیصلہ کرے ۔

منگل کو میڈیا کو جاری کئے گئے ایک بیان میں انہوںنے بتایا کہ میں لیاقت علی رانجھا ولد چو ہدری لا ل خان چھنی گہنا تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہائو الدین سے تعلق رکھتا ہوں ،ْ میں نے دسمبر 2006ء میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور مارچ 2007ء میں اس وقت پنجاب کے صدر احسن رشید صاحب مرحوم نے مجھے ضلع منڈی بہائو الدین کا صدر نامزد کیا ،ْ اس وقت سے لے کر آج تک میں نے پارٹی کے ہر فیصلے کی پابندی کی اور ہر سرگرمی میں بھر پور حصہ لیا ۔

(جاری ہے)

دسمبر 2007ء کے جنرل الیکشن میں پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کیا اور میں نے بھی اس پر عمل کیا ۔ پھر پارٹی نے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ۔تو میں نے اپنے حلقہ PP-118 سے پرویز الٰہی کی خالی کی ہوئی سیٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور 47000 ووٹ میں سے 7000ووٹ حاصل کئے ۔ پھر جنرل الیکشن 2013میں مونس الٰہی کے مقابلے میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر 13000 ووٹ حاصل کئے ۔

پھر مونس الٰہی کی خالی کردہ سیٹ پر ضمنی الیکشن پرویز الٰہی اور( ن) لیگ کے مشترکہ امید وار کے مقابلے میں 51000 میں سے 19000ووٹ حاصل کئے جو کہ 38 %بنتے ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ میں نے 2006ء سے لے کر اب تک ، خان صاحب کی گرفتاری سے لے کر عدلیہ بحالی تحریک ،ْڈرون حملوں کیخلاف نیٹو سپلائی لائن روکنے ، وزیرستان ، پشاور ، کراچی ، لاہور،، راولپنڈی ، سرگودھا ، سیالکوٹ ، فیصل آباد ، ملتان ، گجرات ، جہلم ، بھلوال ، شیخو پورہ، گجرانوالہ میں 2006ء سے 2018ء تک جتنے بھی جلسے اور جلوس ہوئے ان میں لوگوں کو ساتھ لے کر شامل رہا ۔

انہوںنے بتایا کہ عدلیہ اور چیف جسٹس کی بحالی میں،میں نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا پورے چھ ماہ تین ، چار وکلا کے ساتھ لاہور ہر جمعہ کو ہائی کورٹ کی احتجاجی ریلی میں شامل ہوتا رہا ۔ 126دن کے دھرنے میں لوگوں کو ساتھ لے کر شامل رہا ۔ لاک ڈائون اسلام آباد کے دوران میر ا بھتیجا عمران اور ریاض ، ساہیوال جیل میں بند رہے اور میں خود بنی گالا میں 10لوگوں کے ساتھ موجو د رہا ،ْ میرے خلاف مارچ 2009ء میں تھانہ سول لائن منڈی بہائوالدین میں FIR درج ہوئی میں اور میں 5روز حو الات تھانہ سول میں بند رہا ۔

اور ججوں کی بحالی پر رہا ہوا میں نے 7سال بطور صدر ضلع مرحوم احسن رشید صاحب صدر پنجاب اور برسٹر منصور ریجن صدر صاحب کے ساتھ کام کیا اورپھر 2013ء سے 2018ء تک عبد العلیم خان کے ساتھ کام کر رہا ہوں ، پارٹی کی ہر کال پر پارٹی فنڈ اور لو گوں کو لے کر جلسوں اور جلوسوں میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ انہوںنے بتایبا کہ میر ی سابقہ حلقہ PP-118 اور موجودہ حلقہPP-67میں لوگوں کی خوشی غمی میں شرکت کی اور پارٹی ورک بہت زیادہ ہے پارٹی سروے چاہے وہ حلقہ ہو یا ضلع ،میں پوزیشن سب سے بہتر ہے ۔

میرا سیاسی قتل نہ کیا جائے میر ی13سالا خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مجھے PP-67کا ٹکٹ دیاجائے ۔ انہوںنے چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان ،ْ پاکستان تحریک انصاف اور نظر ثانی کمیٹی کے معزز ارکان سے استدعا ہے کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے PP-67 منڈی بہائوالدین 3، پی ٹی آئی کا ٹکٹ مجھے دیا جائے چونکہ میر ی پارٹی خدمات پورے پاکستان میں کسی بھی لیڈر اور کارکن سے کم نہ ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ پارٹی کی جانب سے شاہد نسیم گوندل ایڈووکیٹ کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے جنہوںنے نومبر 2014میں شمولیت اختیار کی اور 2013کے الیکشن میں 3200ووٹ حاصل کئے ۔