ْنگران وزیراعظم، وزرا ء اعلیٰ جانبدار ہیں، فی الفور مستعفی ہوں، محمدعلی درانی کا مطالبہ

مرکزی ، صوبائی حکومتیں سابقہ حکومت کا تسلسل ہیں، چاروں گورنر ہا ئو س (ن)لیگ کے الیکشن سیل بن چکے،حکومتی مشینری ، بلدیاتی ادارے پنجاب اور سندھ کی گزشتہ حکومتوں کی واپسی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں،پنجاب اور سندھ کے بلدیاتی ادارے سرکاری وسائل پر پی پی پی اور (ن) لیگ کی الیکشن مہم چلانے میں مصروف عمل ہیں سابق وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات محمد علی درانی کی میڈیا سے گفتگو

منگل جون 17:46

ْنگران وزیراعظم، وزرا ء اعلیٰ جانبدار ہیں، فی الفور مستعفی ہوں، محمدعلی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے نگران وزیراعظم جسٹس (ر)ناصرالملک اور چاروں نگران وزرااعلی سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کومیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مرکزی اور صوبائی عبوری حکومتیں مکمل طورپر جانبدار اور آئینی مدت مکمل کرنے والی سابقہ حکومتوں کا تسلسل ثابت ہوئی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومتی مشینری اور بلدیاتی ادارے پنجاب اور سندھ کی گزشتہ حکومتوں کو اقتدار میں واپس لانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ یہ تمام کام کھلے عام ہورہا ہے اور انتخابی عمل بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نگران حکومت کی سرپرستی میں چاروں گورنر ہاس مسلم لیگ (ن) کے الیکشن سیل بن چکے ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ کے بلدیاتی ادارے سرکاری وسائل پر پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی الیکشن مہم چلانے میں مصروف عمل ہیں۔

(جاری ہے)

محمد علی درانی نے کہاکہ نگران وزیراعظم اور وزرااعلی اپنی غیرجانبداری ثابت نہیں کرسکے جو ملک میں شفاف، غیرجانبدارانہ اور آزادانہ انتخاب کے انعقادکا بنیادی آئینی، جمہوری اور قانونی تقاضا ہے۔ ایک سوال پر سابق وزیراطلاعات محمد علی درانی نے کہاکہ عوام کی رائے کے آزادانہ اظہار کے راستے مسدود کرنا سب سے بڑی آئین شکنی ہے۔ اس ضمن میں عدالت عظمی اپنا آئینی کردار ادا کرے تاکہ قوم کے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ ہو۔

انہوں نے کہاکہ آئین عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی کتاب ہے اور عوام کو اپنے نمائندے آزادانہ طورپر منتخب کرنے کا حق آئین کا بنیادی مقصد ہے۔ عوام کے اس بنیادی حق کا تحفظ کرنا عدالت عظمی کی بنیادی آئینی اور قانونی ذمہ داری بنتی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ایسے شواہد جمع کئے جاچکے ہیں جو مرکزاور صوبائی سطح پر نگران حکومت کی سرپرستی میں حکومتی مشینری اور وسائل کے استعمال اور جانبدارانہ اقدامات کو ثابت کرتے ہیں۔ ان شواہد کی تفصیلات سوشل میڈیا پر پہلے ہی آچکی ہیں۔