نیب کو خرابی صرف مسلم لیگ (ن) میں ہی نظر آرہی ہے ‘ نواز شریف کو نیب عدالت سے کبھی انصاف نہیں مل سکتا۔شاہد خاقان عباسی

الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں اور اٹھیں گے‘نون لیگ کے امیدواروں کی گرفتاریاں پری پول دھاندلی ہیں-سابق وزیراعظم کی صحافیوں سے گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 17:30

نیب کو خرابی صرف مسلم لیگ (ن) میں ہی نظر آرہی ہے ‘ نواز شریف کو نیب  عدالت ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 جون۔2018ء) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قمرالاسلام کی گرفتاری بدقسمتی کی بات ہے اور اس طرح الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے کاغذات نامزدگی کی اپیلٹ ٹریبونل میں سماعت کے سلسلے میں پیش ہوئے ،جہاں ٹریبونل نے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

ٹریبونل کے فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں نے اپنے حلقے اور پاکستان کے لیے کام کیا، کبھی کسی آمر کا ساتھ نہیں دیا اور پارٹی سے وفاداری نہیں بدلی۔انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ حلقے کے عوام نے کرنا ہے، ہم بھرپور طریقے سے الیکشن لڑیں گے اور یقین ہے کہ (ن) لیگ کامیاب ہوگی۔

(جاری ہے)

(ن) لیگ کے امیدوار قمرالاسلام کی گرفتاری پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری بدقسمتی کی بات ہے، جس سے کبھی تفتیش نہیں ہوئی، کچھ پوچھا نہیں گیا اسے اچانک گرفتار کرنا افسوسناک ہے، نیب سے گزارش ہے قمرالاسلام کو فوری رہا کیا جائے تاکہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ جسے بھِی خرابی نظر آتی ہے مسلم لیگ (ن) میں ہی نظر آتی ہے، الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں اور اٹھیں گے۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کی 100 پیشیاں ہوئیں، انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا، میں نے پہلے کہا تھا کہ کوئی توقع نہیں کہ نوازشریف کو انصاف ملے گا، انصاف نہ صرف ہوناچاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔شاہدخاقان عباسی نے مزید کہا کہ جوالیکشن میں تاخیرکرئے گااس پرآرٹیکل 6لگناچاہئے‘ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ نیب کو خرابی صرف مسلم لیگ (ن) میں ہی نظر آرہی ہے جب کہ نواز شریف کو نیب کی عدالت سے کبھی انصاف نہیں مل سکتا‘ نواز شریف بھاگ کر نہیں گئے وہ جلد واپس آ جائیں گے‘امید ہے کہ چوہدری نثار کی ہمدردیاں بھی اپنی جماعت کے ساتھ ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت،، چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین نیب سے درخواست ہے کہ این اے 59 اور پی پی 10 سے ( ن ) لیگ کے گرفتار امیدوار قمر الاسلام راجہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں اور پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کی نمائندگی کر سکیں ورنہ پاکستان کے عوام خود فیصلہ دے دیں گے ہمارا کام اس زیادتی اور پری پول رگنگ کو عوام کے سامنے رکھنا ہے، ہم بھرپور طریقے سے الیکشن لڑیں گے اور مجھے پورا یقین ہے کہ ( ن ) لیگ کامیاب ہو گی، میں بطور وزیراعظم بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ مجھے کوئی توقع نہیں کہ محمد نوازشریف کو اس نیب عدالت سے انصاف ملے گا، میں تو ہمیشہ سے کہتا رہا ہوں جو انتخابات میں تاخیر کرے گا اگر آپ نے آرٹیکل 6 لگانا ہے تو اس پر لگائیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عمران خان نے بیان حلفی کی شق صحیح خالی چھوڑی کیونکہ انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں نہ ملک کے لئے کیا نہ حلقہ کے لئے کیا‘ انہوں نے صحیح جواب دیا ہے ان کے کاغذ منظور ہونے چاہئیں‘میں ان کے کاغذات کی منظوری کے حق میں ہوں۔ ایک سوال پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی ہے اور تشویش کی بات ہے کہ ہمارے راولپنڈی کے حلقہ این اے 59 سے امیدوار قمرالاسلام راجہ جو کہ میرے حلقہ کے نیچے صوبائی حلقہ پی پی 10 سے بھی وہ امیدوار تھے ان کو گذشتہ روز نیب نے گرفتار کیا ہے۔

میری نگران حکومت اور نیب اہلکاروں سے بھی کہ ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کو نیب نے خط دیا تھا جو انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ دیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی نیب کا ایشو نہیں ہے یہ لیٹر کاغذات نامزدگی میں لگا ہوا ہے۔ اس کو میں پری پول رگنگ نہ کہوں تو کیا کہوں کیونکہ ایک شخص الیکشن لڑ رہا ہے۔ اس سے کبھی تفتیش نہیں ہوئی۔ کبھی پوچھا نہیں گیا اور ایک عام ملزم کی طرح گرفتار کر لینا جو شخص 10 سال ایم پی اے رہا ہو اور آج بھی دو الیکشن لڑ رہا ہو، یہ سیاسی زیادتی ہے الیکشن کی توہین ہے۔

مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ آج نیب کو بھی اور جو دیگر لوگ ہیں ان کو کوئی خرابی نظر آتی ہے پاکستان مسلم لیگ ( ن ) میں ہی نظر آتی ہے ہم نے ان کا مقابلہ کیا ہے۔ میری چیف الیکشن کمشنر سے درخواست ہے اس بات کا نوٹس لیں کہ جب کاغذات جمع نہیں کروائے تھے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ کئی سال کا عرصہ موجود تھا اگر الیکشن کے بعد تک ان معاملات کا انتظار کر لیں تو الیکشن صاف اور شفاف ہوں گے ورنہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سوالات اٹھیں گے۔ میری الیکشن کمیشن،، نگران حکومت اور چیئرمین نیب سے بھی درخواست ہے کہ فوری طور پر قمر الاسلام راجہ کو چھوڑا جائے تاکہ وہ آزادانہ الیکشن میں این اے 59 اور پی 10میں حصہ لے سکیں اور پاکستان مسلم لیگ کی نمائندگی کر سکیں ورنہ پاکستان کے عوام فیصلہ خود دے دینگے ہمارا کام اس زیادتی اور پری پول رگنگ کو عوام کے سامنے رکھنا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے کہا ہے انصاف جو ہوتا ہے وہ نہ صرف ہونا چاہئے بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے بطور وزیراعظم بھی کئی مرتبہ کہا کہ مجھے کوئی توقع نہیں کہ میاں محمد نوازشریف کو اس نیب عدالت سے انصاف ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کبھی باہر نہیں گئے۔ انہوں نے 100 پیشیاں بھگتی ہیں جو نیب تاریخ میں کسی نے نہیں بھگتیں۔

اس شخص نے بھی نہیں بھگتیں جس سے ایک ارب روپے کیش برآمد ہوا تھا اس کی پانچ پیشیاں ہوئی ہیں جو ملک کا وزیراعظم رہا ہو اس کی 100پیشیاں ہوئی ہیں یہ انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انتخابات کا وقت بڑھانے کی کوئی گنجائش آئین میں نہیں اگر ہے تو مجھے دکھا دیں۔ میں تو ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ جو انتخابات میں تاخیر کرے گا اگر آپ آرٹیکل چھ لگانا ہے تو اس پر لگائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری ہمدردیاں اپنی جماعت کے امیدوار کے ساتھ ہیں اور مجھے امید ہے کہ چوہدری نثار کی ہمدردیاں بھی جماعت کے ساتھ ہی ہونگے۔