ضلعی عدلیہ میں نئے تعینات ہونے والے 21 سول ججز نے حلف اٹھا لیا

آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جج کی اولین ذمہ داری ہے‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی کا خطاب

منگل جون 18:15

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد یاور علی نے کہا ہے کہ ججز کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ بغیر کسی خوف و خطر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں،انصاف کی فراہمی ایک مقدس فریضہ ہے جو خدائی صفت ہے،امید کرتے ہیں کہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی نئے تعینات ہونے والے ججز کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرے گی، جوڈیشل افسران کی پری سروس ٹریننگ کے دورانیہ کو بڑھا کر چھ ماہ کر دیا گیا ہے، انہوں نے حلف اٹھانے والے سول ججز سے کہا کہ 6 ہزار امیدواروں میں سے 21 امیدواروں کا بطور سول جج منتخب ہونا آپ کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور آپ اسی طرح انتھک محنت سے ادارے کو مزید مضبوط بنائیں گے ۔

فاضل چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار نئے تعینات ہونے والی21 سول ججز کی حلف برداری تقریب سے کیا۔

(جاری ہے)

لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محمد انوار الحق نے حلف اٹھانے والے سول ججز کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں آنے والے سائلین اپنے مسائل کے حل کیلئے عدلیہ پر اعتماد کرتے ہیں اور ہمارے فیصلوں کو قبول کرتے ہیں۔ فاضل سینئر ترین جج نے کہا کہ پری سروس ٹریننگ کیلئے پہلی بار عمدہ ترین سلیبس تیار کیا گیا ہے۔

دوران تربیت محنت و لگن اور دلچسپی سے تربیتی کورس میں حصہ لیں اور اپنی قابلیت میں مزید نکھار پیداکریں۔حلف اٹھانے والے 21 سول ججز میں سردار عمر حسن خان ، مس صبا قمر ، مس نسیم اختر ناز ، مس مائرہ حسن ، مسٹر قمر عباس ، مسٹر احسان نواز ، مسٹر محمد بلال ، مسٹر محمد عامر سلطان کولاچی، مسٹر محمد عباس ، مس سمیرا جبار، علی رضا ، محمد بلال خان، محمد طارق رشید خان ، عبید حسن ، مس ثنا افضال ، مسٹر منصور احمد ، مسٹر اللہ نواز ، مسٹر یوسف سلیم ، مسٹر محمد زبیر صابر، مسٹر محمد جاوید اقبال، مس شاہین نور شامل ہیں۔

اس موقع پر رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ بہادر علی خان، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری رائو عبدالجبار، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹیبلشمنٹ سردار طاہر صابر اور ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی فخر حیات بھی موجود تھے۔