ْاسحاق ڈار کی ریڈ وارنٹ کے ذریعے واپسی کے معاملے کو قانون کے مطابق دیکھیں گے ‘سید علی ظفر

الیکشن کے التواء کا کوئی جواز نہیں ،پرامن ، صاف، شفاف اور بروقت انتخابات کی ذمہ داری کو پورا کرینگے‘نگران وزیر قانون

منگل جون 18:23

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) نگران وفاقی وزیر قانون ، اطلاعات و نشریات سید علی ظفر نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کی ریڈ وارنٹ کے ذریعے واپسی کے معاملے کو قانون کے مطابق دیکھیں گے ،،الیکشن کے التواء کا کوئی جواز نہیں ،پرامن ، صاف، شفاف اور بروقت انتخابات ہماری ذمہ داری ہے جسے پورا کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں صوبے کے مختلف بارز کے عہدیداروں میں گرانٹس چیکوں کی تقسیم کی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر وکلاء رہنمائوں اور بارز کے وکلاء کی کثیر تعداد موجود تھی ۔سید علی ظفر نے کہا کہ میرے والد بھی وکیل ہیں بچپن سے وکالت دیکھ رہا ہوں وکلاء بارز کو اپنی فیملی سمجھتا ہوں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے بارز سے رابطے میں ہوں ایک ایسے قانونی عمل کی ضرورت ہے جس کے ذریعے بارز کو باقاعدگی سے فنڈز ملیں، نوجوان وکلاء ہمار مستقبل ہیں انکے مسائل کو بھی ہمیں دیکھنا چاہیے ۔

قانون بننا چاہیے کہ نجی ادارے لیگل ایڈوائزر تعینات کرنے کے پابند ہوں اس سے نوجوان وکلاء کو روزگار کے موقع ملیں گے۔جبکہ لیگل ڈاکو مینٹیشن صرف وکلاء کے ذریعے ہی کی جائے ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے بنجاب بھر سے آئے ہوئے وکلاء عہدیداروں میں چیک تقسیم کئے ، جبکہ وفاقی وزیر نے پنجاب بار کونسل کو چھ ملین اور لاہور ہائیکورٹ بار کو چار ملین کا چیک دیا ۔

اس موقع پر لاہور ہائیکورت بار کے صدر انوار الحق پنوں اور سیکرٹری حسن اقبال وڑائچ نے پنجاب بھر کے بارز میں وفاقی وزیر کی طرف سے گرانٹس دینے کے اقدام کو خراج تحسین پیش کیا اور لاہور ہائیکورٹ بار کا دورہ کرنے پر انکا شکریہ ادا کیا ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شفاف ، پرامن الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے جو بھی مسائل ہیں انہیں جتنا ممکن ہوا حل کرینگے ، ہماری کوشش ہے کہ آئندہ آنے والی حکومتوں کو گائیڈ لائن چھوڑ کر جائیں ۔

بجلی لوڈشیڈنگ کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر ایک وائٹ پیپر بننا چاہیے ، اس میں ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیویشن ، جنریشن پر کام نہیں کیا گیا اورنہ ہی سولر انرجی کے حصول کیلئے کوئی اقدامات کئے گئے۔ پاکستان پانی کو ضائع کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے ،،پانی کے مسئلے پر ایک واٹر کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے جس میں ماہرین کو بلایا جائے ۔

ایک سوال کے جواب میں سید علی ظفر نے کہا کہ فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں ضم کرنے کے بعد اب وہاں عدالتوں اور پولیس اسٹیشنز اور دیگر قانونی انفراسٹرکچر قائم کرنے کے معاملات درپیش ہیں اب یہ سارے کام کسی جادو کی چھڑی سے ایک دن میں نہیں کر سکتے ، اس کیلئے وقت درکار ہے ، اس لیے وہاں سال بعد الیکشن کا انعقاد کیا جائے گا آئین میں اس حوالے سے انتظامات کیے گئے ہیں، فاٹا کے معاملے پر ایک قانونی کمیٹی میری سربراہی میں بنی ہے جو اس سلسلے میں پیپر ورک پر کام کر رہی ہے۔

جبکہ ایک فنانس کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو فاٹا کے مالی معاملات پر کام کر رہی ہے اس وقت یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی جا چکا ہے عدالت عظمیٰ جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا ،بہرحال فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کا اقدام اس صدی کا تاریخی کارنامہ ہے ۔۔اسحاق ڈار کو واپس لانے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ قانون کے مطابق بیرون ملک سے کسی اشتہاری ملزم کو لانے کیلئے ریڈ وارنٹ جاری کیے جاتے ہیں اور اس کا ایک قانونی پراسیس ہوتا ہے ، اس معاملے کو قانون کے مطابق دیکھیں گے۔