فلسطینیوں کے حقوق کیلئے برطانیہ میں سرگرم تنظیموں کااونروا کی مالی امداد جاری رکھنے کا مطالبہ

منگل جون 18:38

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) فلسطینیوں کے حقوق کیلئے برطانیہ میں سرگرم تنظیموں نے فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے عالمی ادارے’اونروا‘ کی مالی مدد جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ’برطانیہ میں مرکز برائے حق واپسی‘۔ فلسطین شام ایکشن گروپ اور دیگر ممالک نے نیویارک میں منعقدہ ’اونروا‘ کی ڈونرز کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے ’اونروا‘ کی مدد جاری رکھیں۔

دونوں تنظیموں نے اپنے الگ الگ مکتوبات میں امریکا میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس کے شرکاء کو لکھا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی ریلیف ایجنسی ’اونروا‘ بدترین مالی بحران کا سامنا کررہی ہے۔ امریکہ اور بعض دوسرے ممالک کی طرف سے ریلیف ایجنسی کی مالی امداد بند کرنے یا کم کرنے کے بعد تنظیم کو فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

مکتوبات میں کہا گیا ہے کہ غرب اردن، غزہ کی پٹی اور فلسطین سے باہرلبنان، اردن اور شام میں موجود فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی کی جانب سے غزہ کی پٹی کے علاقے کی مسلسل معاشی ناکہ بندی کے باعث وہاں پر بسنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکا کی جانب سے اونروا کی امداد بند کرنے کے نتیجے میں غزہ ، غرب اردن اور دوسرے مقامات پر مقیم فلسطینی مہاجرین کے مسائل کے حل میں شدید دشواری درپیش ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے حق واپسی کو یقینی بنانے کیلئے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اسرائیل پر فلسطینیوں کے حق واپسی کو تسلیم کرنے اور پناہ گزینوں کو واپس ان کے علاقوں میں آباد ہونے میں رکاوٹیں ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالے۔