ملائیشیا، خواتین کے ناچنے کے بعد مسجد میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد

خواتین کا فعل مسلمان عبادت گزاروں کے تضحیک اور مقامی مہمان داری کے مذاق کے مترادف ہے،حکام

منگل جون 18:59

کوالالمپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) ملائیشیا میں خواتین کے ناچنے کے بعد مسجد میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی، خواتین کا فعل مسلمان عبادت گزاروں کے تضحیک اور مقامی مہمان داری کے مذاق کے مترادف ہے،غیر ملکی ذرائع کے مطابق ملائیشیا میں سوشل میڈیا پر دو خواتین کی مسجد کی عمارت کے سامنے ناچنے والی ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد اس مسجد میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس ویڈیو میں دو خواتین کو گھٹنے سے اوپر لباس پہنے ہوئے اور کھلے پیٹ کے ساتھ ملائیشیا کے جزیرے بورنیو میں قائم کوٹا کنابالو مسجد کے سامنے ناچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔حکام ان دونوں خواتین کی شناخت کے لیے کاروائیاں کر رہی ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ دونوں غیر ملکی تھیں اور ان کا تعلق مشرق بعید کے ممالک سے ہے۔

(جاری ہے)

ملائیشیا کی ریاست صباح میں وزارت سیاحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان عبادت گزاروں کے تضحیک کی گئی اور مقامی مہمان داری کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

اتوار کو مسجد کے چئیرمین نے کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ کو سیاحوں کو مسجد کی عمارت تک لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مزید کہا کہ سیاحوں کو لانے والی کمپنیوں سے بھی گفتگو کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ پیش آئیں۔ملائیشیا میں غیر ملکیوں کو عام طور مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مذہبی مقامات اور مساجد جاتے ہوئے سادہ لباس پہنیں۔کوٹا کنابالو کی مسجد اپنے مینار اور گنبد کی وجہ سے کافی شہرت رکھتی ہی.

متعلقہ عنوان :