پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان نے اپنے کیس کو مضبوطی کے ساتھ پیش کردیا

ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان سرحد پارکرنسی اسمگلنگ کے حوالے سے بھی اپنی رپورٹ جمع کرائیگا امید ہے پاکستان کا نام گرے لسٹ پر نہیں ڈالا جائیگا، حتمی فیصلہ اجلاس کے اختتام پر کیا جائیگا ،ْاجلاس 29 جون کو ختم ہوگا ،ْ ذرائع

منگل جون 19:22

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان نے اپنے کیس کو مضبوطی کے ساتھ پیش کردیا ہے جبکہ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان سرحد پارکرنسی اسمگلنگ کے حوالے سے بھی اپنی رپورٹ جمع کرائیگا ۔نجی ٹی وی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پیرس اجلاس میں پاکستان نے آئندہ سال تین رپورٹس جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے جس میں چار دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کئے گئے اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی ،ْسفارتی ذرائع کے مطابق جن دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات کی تفصیلات فراہم کی جائینگی ،ْاس میں القاعدہ،، طالبان،، حقانی نیٹ ورک اور داعش شامل ہیں ،ْ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان سرحد پارکرنسی اسمگلنگ کے حوالے سے بھی اپنی رپورٹ جمع کرائیگا۔

(جاری ہے)

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے پیرس اجلاس میں اپنا کیس انتہائی مضبوط کے ساتھ پیش کیا ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ پر نہیں ڈالا جائیگا، تاہم اس کا حتمی فیصلہ اجلاس کے اختتام پر کیا جائے گا۔سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے پیرس اجلاس میں اپنا کیس انتہائی مضبوط کے ساتھ پیش کیا ہے جس سے یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ پر نہیں ڈالا جائیگا، تاہم اس کا حتمی فیصلہ اجلاس کے اختتام پر کیا جائیگا ،ْاجلاس 29 جون کو ختم ہوگا۔

یاد رہے کہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کررہی ہیں وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے کچھ مطالبات پورے کردیئے گئے ہیں۔حکام وزارت خزانہ کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے کچھ مطالبات پورے جبکہ باقی اقدامات کیلئے پیرس اجلاس میں وقت مانگا جائیگا۔ حکام کاکہناہے کہ دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے قوانین سخت کردیئے ہیں۔

بے نامی جائیدادوں اور اکاؤنٹس کا سراغ لگانے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ حکام نے بتایا منی لانڈرنگ روکنے کیلئے معیشت کو دستاویزی شکل دی جارہی ہے ،ْ غیر سرکاری تنظیموں کے مالی امور کا آڈٹ لازمی قرار دیا گیا ہے ،ْ اس کے علاوہ شہریوں کو بیرون ملک اثاثوں کی ملکیت بتانا ہوگی اس کے ساتھ ساتھ نان فائلرز کیلئے سخت قوانین بنادئیے گئے ہیں۔