فیصل آبادکے مغوی نوجوان کو اغواء کار بہوشی کی حالت میں پھینک کر فرار

منگل جون 20:20

ڈی آئی خان۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) فیصل آباد سے دو ماہ قبل اغواء ہونے والے نوجوان کو اغواء کار بہوشی کی حالت میں سڑک پر پھینک کر فرارہوگئے ،متاثرہ نوجوان کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیاگیا۔فیصل آباد لاری اڈہ جنرل بس سٹینڈ کے رہائشی نوجوان سکندر جہانگیر ولد ذوالفقار قوم آرائیں نے پولیس کو بتایا کہ اس کا فیصل آباد میں گاڑیوں کے پرانے سپیئر پارٹس کا کاروبار ہے ۔

بنوں کے رہائشی محمد ارشد کے ساتھ گزشتہ سات سال سے کاروباری مراسم کی وجہ سے سامان کی خریداری کے سلسلے میں ایک دوسرے کے پاس آناجانا تھا۔سامان کی خریداری کے لئے محمد ارشد نے اسے بنوں بلایا اور سامان کی قیمت 8لاکھ 15 ہزار روپے لگانے کے باوجود ان کا سودا طے نہ ہونے پر وہ وآپس فیصل آباد چلا گیا ۔

(جاری ہے)

اس دوران محمد ارشد نے اسی قیمت پر سامان فروخت کرنے کی حامی بھرلی اور کہا کہ اس کا بھائی محمد زاہد کار میں فیصل آباد آیا ہوا ہے وہ اس کے ساتھ رقم لے کر بنوں آجائے اور اپنے ساتھ سامان لے جائے ۔

وہ اس کے بھائی اور دیگر تین نامعلوم افراد کے ساتھکار پر بنوں آگیا اور رقم اس کے حوالے کردی لیکن رقم لینے کے بعد اس نے مجھے مکان کے اندر بند کردیا اور مزید آٹھ لاکھ روپے کی رقم کا تقاضا کرنے لگا ۔سامان کی طے شدہ رقم دینے سے کے بعد مزید رقم دینے سے انکار کرنے پر انہوں نے مجھے مکان کے اندر مبحوس کردیاجہاں مجھے بہوش رکھنے کے لئے وہ مجھے مسلسل بہوشی کے انجکشن لگاتے رہے اور مذید رقم کا تقاضا کرتے رہے ۔

اس دوران انہوں نے مجھے دو ماہ سے زائد ایک نامعلوم مکان میں قید کرکے رکھا اور آخر کاربہوشی کی حالت میں وہ مجھے ڈیرہ اسماعیل خان کی نامعلوم سڑک کے کنارے پھینک کر فرارہوگئے ۔ہوش میں آنے پر ا س نے خود کو ہسپتال کے بستر پر موجود پایا۔مغوی کو طبی امداد کے بعد اس کے لواحقین کے سپرد کردیاگیا ۔ پولیس کے مطابق مغوی کی اغوائیگی کا مقدمہ فیصل آباد تھانہ میں پہلے ہی درج کیا جاچکا ہے ۔