رقم بیرون ملک بھیجنے کا کیس ، پرویز الہی اور چوہدری شجاعت حسین نے یکطرفہ کارروائی ختم کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

منگل جون 20:23

لاہور۔26 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) غیر قانونی طور پر رقم بیرون ملک بھیجنے کے کیس میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے یکطرفہ کارروائی ختم کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔ جسٹس مامون رشید شیخ نے کیس کی سماعت کی،عدالتی حکم پر جہانگیر ترین،،،اسحاق ڈار،،حامد خان اورقانون دان میاں منشاء کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے، چوہدری برادران کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ چوہدری بردران اس کیس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں لہذا یکطرفہ کارروائی ختم کی جائے،جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نوٹسز کی تعمیل کے باوجود پیش نہ ہونے پر یکطرفہ کارروائی شروع کی گئی اب کارروائی کیسے ختم کی جا سکتی ہے،درخواست گزار نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر چوہدری برادران جرمانہ ادا کر دیں تو انہیں یکطرفہ کارروائی ختم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں،جس پر عدالت نے چوہدری برادران کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیوں نہ چوہدری برادران کے خلاف جاری یکطرفہ کارروائی کو78ہزار چھ سو روپے بانوے پیسے جرمانہ ادا کرنے پرختم کر دیا جائے،جس پر چوہدری برادران کے وکیل نے استدعا کی کہ انہوں نے اس کیس کی کوئی فیس نہیں لی لہذا وہ جرمانہ کیسے ادا کر سکتے ہیں،جس پرعدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب عدالت حکم دے گی تو جرمانہ تو ادا کرنا پڑے گا آپ اپنے موکل کو جرمانہ کی ادائیگی سے متعلق آگاہ کر دیں،،عدالت کی جانب سے اصالتا یا وکالتا پیش نہ ہونے پر میاں نوازشریف سمیت تیس فریقین کے خلاف یکطرفہ کارروائی جاری ہے،درخواست گزار بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے موقف اختیار کر رکھا ہے کہ عمران خان،، نواز شریف،،،شہباز شریف،،،پرویز الہی ،چوہدری شجاعت حسین، سردار ایاز صادق،،،اسحاق ڈار،،،جاوید ہاشمی،،،فاروق ستار،،،نجم سیٹھی،،میاں منشاء ،عاصمہ جہانگیر،خواجہ شریف ،،حمزہ شہباز شریف ،،شاہد خاقان عباسی،،رانا تنویر اور شیخ رشید نے تین سو ارب ڈالر غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کئے اور قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے صاحبزادوں نے برطانیہ میں ایک سو انچاس جائیدادیں خریدیں جبکہ درخواست میں فریق بنائے گئے تمام سیاستدانوں نے بیرون ملک اثاثے بنائے،انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان سیاستدانوں کی طرف سے بیرون ملک بینکوں میں رکھے گئے پیسے وطن واپس لا کر ملک کی حالت تبدیل کی جا سکتی ہے اور حقیقی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔