آزاد کشمیر کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت اندرون و بیرون ملک اثاثہ جات کو ٹیکس کے دائر کار میں لانے کے لیے آرڈیننس2018 کی منظوری دے دی

منگل جون 20:40

مظفرآباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) آزاد جموں وکشمیر کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت اندرون و بیرون ملک اثاثہ جات کو ٹیکس کے دائر کار میں لانے کے لیے رضاکارانہ بنیادوں پر اثاثہ جات کو ظاہر کرنے کے حوالے سے فارن ایسٹس آرڈیننس 2018،والنیٹری ڈیکلریشن آف ڈومیسٹک آرڈیننس2018،آزاد جموں و کشمیر انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی تشکیل نو،ضلع راولپنڈی میں مہاجرین کے لیے اراضی کی خرید میں خرد برد کا معاملہ احتساب بیورو کو ارسال کرنے ،پہلے سے موجود اراضی کی نیلامی ، سرکاری ملازمتوں کے لیے ضلع وائز کوٹے سے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے سینئر وزیر کی سربراہی میں اعلی سطحی کمیٹی قائم کرنے ،آزاد جموں وکشمیر ایلوپتھک سسٹم ایکٹ 2017کی منظوری دے دی ہے۔

آزادکشمیر کابینہ کا اجلاس وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں وزراء حکومت چوہدری طارق فاروق ،راجہ نثار احمد خان ،،ڈاکٹر محمد نجیب نقی ،سردار میر اکبر خان،محترمہ نورین عارف ،سردار فاروق سکندر،سید شوکت علی شاہ ،چوہدری محمد سعید ،ناصر حسین ڈار،احمد رضا قادری ،وقار احمد نور ،چیف سیکرٹری ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات،ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل،سیکرٹری مالیات ،سیکرٹری سروسز ،پرنسپل سیکرٹری ،سیکرٹری قانون ،سیکرٹری اطلاعات و سیاحت سمیت جملہ سیکرٹریز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔

کابینہ اجلاس میں پاکستان کی طرز پر آزادکشمیر میں بھی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دے دی گئی ہے اس سکیم سے آزادکشمیر کی آمدن میں اضافہ ہو گا کابینہ اجلاس میں ادویات ایلوپتھک سسٹم ایکٹ 2017کی منظوری دے دی گئی جس کے تحت اب کوئی غیر رجسٹرڈ ڈاکٹر مریض کو نسخہ تجویز نہیں کر سکے گا اور نہ ہی غیر رجسٹرڈ سرجن آپریشن کر سکے گا جبکہ جملہ ادویات کو محفوظ رکھا جانا ضروری قرار دیا گیا ہے اب کھلے عام اور حفاظتی اقدامات کے بغیر ادویات فروخت نہیں کی جا سکیں گی جبکہ ڈرگ انسپکٹرز کو اس حوالے سے کارروائی کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں اس ایکٹ کی خلاف ورزی پر قید و جرمانے کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے ۔

کابینہ اجلاس میں ماضی میں ضلع راولپنڈی میں مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان کی آبادکاری کے لیے زمین کی خرید میں خرد برد کا معاملہ احتساب بیورو کو ارسال کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس مالیاتی سکینڈل کی تحقیقات احتساب بیورو سے کروا کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی کابینہ اجلاس میں ماضی میں سرکاری ملازمتوں میں ضلعی کوٹہ کے خاتمے کے نوٹیفکیشن کا جائزہ لینے کے لیے سینئر وزیر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے کمیٹی میں وزیر قانون ،وزیر برقیات ،وزیر خزانہ ،وزیر ایس ڈی ایم اے ،چیف سیکرٹری ،سیکرٹری مالیات اور سیکرٹری سروسز بھی شامل ہیں یہ کمیٹی آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر کے ضلعی کوٹہ سسٹم سے متعلقہ لائحہ عمل طے کرے گی اور ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے گی اس رپورٹ کو آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزادکشمیر کی معیشت کا ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے گا مالیاتی خود مختاری کے بعد آزادکشمیر حکومت پر جو ذمہ داریاں عائد ہوئی ہیں ان سے عہدہ برا ہوں گے اور اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اخراجات کریں گے آزادکشمیر کے ذرائع آمدن میں اضافے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں گے ریاست کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر ریاست کی ترقی و خوشحالی کے لیے کوشاں ہیں ۔

آزاد کشمیر کے ترقیاتی بجٹ میں دوگنا سے زائد اضافے کے بعد آزادخطہ کے اندر تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور بلا تخصیص لوگوں کو سہولیات مہیا ہو رہی ہیں وزیراعظم نے کہا کہ تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد عوامی نمائندوں اور بیور کریسی پر بھاری ذمہ داریاں ہیں آزادکشمیر کے اندر وسائل کا درست استعمال ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور ترقیاتی بجٹ سے عوام کوزیادہ سے زیادہ مستفیدکیا جائے ۔