ڈاکٹرز کو سیکیورٹی اور سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ڈاکٹر سعدیہ رضوی

منگل جون 20:45

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سعدیہ رضوی نے سول ہسپتال میں خاتون مریض کی ہلاکت کے بعد مشتعل افراد کی جانب سے ہسپتال میں توڑ پھوڑ اور لیڈی ڈاکٹرز پر تشدد کے واقعہ کے بعد ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے اٹینڈنٹ کی جانب سے ڈاکٹرز اور ہسپتال کے عملے پر تشدد بلکل برداشت نہیں کیا جائیگا، مریضوں سے درخواست ہے کہ کسی بھی شکایت اور مسئلے کی صورت میں ایڈمن سیکشن سے رابطہ کریں، قانون اپنے ہاتھ میں لینا کسی مسئلے کا حل نہیں، ڈاکٹرز کو سکیورٹی اور سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

منگل کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق انہوں نے سیکریٹری محکمہ صحت سندھ عثمان چاچڑ کو ہدایت دی کہ سول ہسپتال کراچی میں سیکورٹی کے انتظامات کو مزید بہتر کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے جائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب تک ڈاکٹرز اور اسٹاف خود کو محفوظ نہیں سمجھیں گے وہ بہتر خدمات نہیں دے سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسوسناک واقعہ کے تفصیلی انکوائری کروائی جا رہی ہے جو بھی اس حادثہ کے ذمہ دار ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

نگران وزیر صحت سے کامیاب مذاکرات کے بعد ڈاکٹرز نے احتجاج ختم کر دیا۔ بعد ازا ں صو با ئی وزیر صحت و بہبود آبا دی ڈاکٹر سعدیہ رضوی نے محکمہ بہبود آبادی کے زیر انتظام کنسلٹیٹو ورکشاپ میں شرکت کی اور سندھ بھر سے آئی ہوئی محکمہ بہبود آبادی کی ڈاکٹرز، گائنا کالوجسٹ اور دیگر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہبود آبادی، بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور بریسٹ فیڈنگ کے حوالے سے عوام میں شعور اُجاگر کرنے کے عمل کو مزید تیز کریں۔