احتساب عدالت نے صاف پانی کرپشن کیس کے ملزمان قمر الاسلام اور وسیم اجمل کو 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا

قمر الاسلام نے 84واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا ٹھیکہ غیر قانونی طورپر مہنگے داموں دینے جبکہ وسیم اجمل پر پراجیکٹ بڈنگ کے بعدغیر قانونی طورپر صاف پانی کمپنی کے کاغذات میں تبدیلیاں کرنے کا الزام ہے

منگل جون 20:55

احتساب عدالت نے صاف پانی کرپشن کیس کے ملزمان قمر الاسلام اور وسیم اجمل ..
لاہور۔26 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب))لاہور نے صاف پانی کمپنی کرپشن کیس میں گرفتار سابق چیئرمین صاف پانی کمپنی ملزم انجینئر راجہ قمرالاسلام کو احتساب عدالت لاہور کے روبرو پیش کرکے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ۔ نیب ترجمان کے مطابق ملزم انجینئر قمر الاسلام راجہ پر 84واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا ٹھیکہ غیر قانونی طورپر مہنگے داموں دینے کا الزام ہے ،ْواٹر پلانٹس میں 56ریورس آسموسز پلانٹس تھے جبکہ 28 الٹرا فلٹریشن پلانٹس شامل ہیں،واٹر پلانٹس چار تحصیلوں میں لگائے جانے تھے جن میں حاصل پور، منچن آباد، خان پور اور لودھراں شامل ہیں۔

نیب ترجمان کے مطابق ملزم انجینئر قمرالسلام راجہ نے بدنیتی کے ذریعے بڈنگ کے کاغذات میں مالی تخمینہ بڑھا کر ظاہر کیا،ملزم کی جانب سے کے ایس بی پمپس نامی کمپنی کو مہنگے داموں ٹھیکہ دیا گیا ،ْملزم قمر السلام راجہ پروکیورنمنٹ کمیٹی کے انچارج ہوتے ہوئے مہنگے داموں کے ایس بی پمپس کا ٹھیکہ منظور کیا ،ْملزم نے مبینہ طورپر 102واٹر فلٹریشن پلانٹس کا ٹھیکہ کے ایس بی پمپس کو مہنگے داموں دیا ،ْملزم نے 102واٹر پلانٹس کا ٹھیکہ بورڈ آف ڈائریکٹر سے منظور کروایا بلکہ ٹھیکے کے کاغذات میں بعد ازاں تبدیلیاں بھی کیں ،ْنیب ترجمان کے مطابق دونوں ملزمان کی گرفتاری ٹھوس شواہد کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے ،ْ منگل کے روز دونوں ملزمان قمرالاسلام اور ملزم وسیم اجمل کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جس پر احتساب عدالت نے دونوں ملزمان کا 9 جولائی تک جسمانی ریمانڈ دے دیا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ سابق سی ای او ملزم وسیم اجمل پر پراجیکٹ بڈنگ کے بعدغیر قانونی طورپر صاف پانی کمپنی کے کاغذات میں تبدیلیاں کرنیکا الزام ہے ،ْنیب ترجمان کے مطابق ملزم کا یہ اقدام قانونی طور پر پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014کی سخت خلاف ورزی ہے ،ْوسیم اجمل سابق سی ای او صاف پانی کمپنی نے 8فلٹریشن پلانٹس غیر قانونی طورپر تحصیل دنیا پور میں لگائے جبکہ متعلقہ علاقہ کنٹریکٹ کے مطابق حدود میں شامل نہ تھا ،ْملزم وسیم اجمل نے کنٹریکٹرز اور کنسلٹنٹ سے ملی بھگت کر تے ہوئے معاہدے کی شقوں میں ردوبدل کیا ،ْملزم وسیم اجمل کی جانب سے علی اینڈ فاطمہ پرائیویٹ لمیٹڈ کوبورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طورپر 24.7 ملین کی رقم فراہم کی گئی۔

نیب ترجما ن نے مزید بتایا کہ ملزم وسیم اجمل نے رقم آفس کی کرایے کی مد میں ادا کی جبکہ اس آفس کا قبضہ ہی حاصل نہ کیا گیا تھا ،ْملزم وسیم اجمل کی صاف پانی کمپنی میں بطور سی ای او تعیناتی بھی غیر قانونی تھی، ملزم وسیم اجمل کی تعیناتی مبینہ طورپر بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے کی گئی۔