سٹہ بازوں کی پیشکش کے اعتراف پر عمر اکمل کو سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،

آئی سی سی ضابطہ اخلاق کے تحت کسی پیشکش کو رپورٹ نہ کرنا اور غلط بیانی کرنا سنگین نوعیت کا جرم ہے،ذرائع

منگل جون 20:59

سٹہ بازوں کی پیشکش کے اعتراف پر عمر اکمل کو سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ..
لاہور۔26 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز عمر اکمل نے اپنے ایک انٹرویو میں سٹہ بازوں کی پیشکش کا اعتراف تو کرلیا ہے تاہم انہیں اس سلسلہ میں سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، انہوں نے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کو توڑا ہے اس لیے انہیں قانون کی خلاف ورزی پر کڑی سز اکا سامنا کرنا پڑے گا۔عمر اکمل نے انٹرنیشنل کرکٹ میں سٹے بازوں کی پیشکش کا ذکر کیا تھا اس لیے ان پر پی سی بی کا نہیں آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ لاگو ہوتا ہے۔

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن قوانین کے تحت اس جرم کی کم سے کم سزا چھ ماہ ہے۔آئی سی سی ضابطہ اخلاق کے تحت کسی پیشکش کو رپورٹ نہ کرنا اور غلط بیانی کرنا سنگین نوعیت کا جرم ہے۔عمر اکمل نے پاکستان کرکٹ بورڈ اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ کرنل (ر) اعظم کے سامنے پیش ہوکر ڈھائی گھنٹے مختلف سوالات کے جواب دئیے۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے طور پر عمر اکمل سے انٹرویو کررہا ہے لیکن چونکہ انہوں نے پاکستان ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہوئے انٹرنیشنل میچز میں فکسنگ کی پیشکش کا اعتراف کیا تھا اس لیے عمر اکمل سے آئی سی سی کے تفتیش کار علیحدہ انٹرویو کریں گے۔

عمر اکمل کو انٹرویو کے لیے دبئی طلب کیا جاسکتا ہے یا آئی سی سی تفتیش کار لاہور آکر ان سے بیان ریکارڈ کریں گے اور ممکن ہے کہ آئی سی سی اپنے ضابطہ اخلاق کے تحت کارروائی کرے گا۔عمر اکمل کیس میں معاملہ اس لحاظ سے سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے کہ انہوں نے ان پیشکشوں کو رپورٹ کرنے سے گریز کیا اور ٹیم منیجر نوید اکرم چیمہ بھی لاعلم تھے۔آئی سی سی قوانین کے تحت یہ سنجیدہ نوعیت کی خلاف ورزی ہے۔