کریمنل آف پراسکیوشن سروس انسپیکٹوریٹ کو میرٹ اور مینڈیٹ پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے،صوبائی وزیر داخلہ

منگل جون 20:59

لاہور۔26 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) صوبائی وزیر داخلہ ، پراسیکیوشن اور سپورٹس شوکت جاوید نے کہا ہے کہ محکمہ پراسکیوشن انصاف کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم کردار کا حامل حکومتی ادارہ ہے، اگر چہ اسکی کارکردگی بہت اچھی ہے تاہم معیاری کریمنلپراسیکیوشن سروس کی فراہمی کے لیے اس میں مزیدبہتری کی گنجائش موجود ہے۔انہیں گزشتہ روز یہاں سول سیکرٹریٹ میں سیکرٹری پراسیکیوشن سید علی مرتضیٰ شاہ کی جانب سے محکمانہ بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید احتشام قادر، ڈائریکٹر جنرل پنجاب کریمنل پراسکیوشن سروس انسپیکٹوریٹ مہر محمد حیات لک، ڈائریکٹر جنرل پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اشرف طاہر اور ڈائریکٹر سینٹر فار پروفیشنل ڈیویلپمنٹ آف پبلک پراسکیوٹرز چوہدری محمد جہانگیر بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

وزیرپراسیکیوشن نے کہا کہ کریمنل آف پراسکیوشن سروس انسپیکٹوریٹ کو میرٹ اور اپنے مینڈیٹ پر کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے۔

صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ محکمہ پراسکیوشن شہادت کو اکٹھا کرنے اور پراسیکیوشن کے طریقہ کار کے حوالے سے قانونی مشاورت فراہم کرتا ہے۔محکمہ پراسیکیوشن کورٹس میں وٹنس پروٹیکشن سروسز کی فراہمی کابھی ذمہ دار ہے۔ محکمہ کی بہتر کارکردگی کی بدولت 2015کی نسبت 2017 میں اینٹی ٹیرارزم کورٹس میں سزا کی شرح 38 فیصد ، سیشن کورٹس میں 59.6فیصد جبکہ مجسٹریٹ کورٹس میں شرح سزا 64فیصد رہی ۔

اسی طرح کریمنل پراسیکیوشن سروس انسپیکٹوریٹ نے کریمنل پراسیکیوشن سروس میں 2015 میں 45 انسپیکشنز ، 2016 میں 44 جبکہ 2017 میں 77 انسپیکشنز کیں۔سیکرٹری پراسیکیوشن نے بتایا کہ224 پراسیکیوٹرز کو امریکہ ، برطانیہ ، ترکی،، تھائی لینڈ ، سری لنکااور اٹلی سے جدید تربیت بھی دلوائی گئی ہے۔قبل ازیں ، سیکرٹری پراسیکیوشن نے صوبائی وزیر داخلہ و پراسیکیوشن کو محکمانہ کارکردگی، سٹرکچر اور اس کے فنکشنز کے بارے میںآگاہ کیا۔ شوکت جاوید نے محکمہ پراسیکیوشن کی بے مثال کارکردگی کو بے حد سراہا اور سید علی مرتضیٰ شاہ کی خدمات کو اس محکمہ کے لیے گرانقدر قرار دیا۔