پاکستان میں 400 خاندان قومی سیاست پر قابض ہیں، ترکی میں طیب اردوان کی کامیابی خوش آئند ہے،حامد رضا

منگل جون 21:13

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور این اے 110 سے امیدوار قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ پاکستان میں 400 خاندان قومی سیاست پر قابض ہیں۔ ترکی میں طیب اردوان کی کامیابی خوش آئند ہے۔ پاکستان کو خوردبردگان نہیں طیب اردوان جیسے حکمرانوں کی ضرورت ہے۔ اس بار انتخابات وکھری ٹائپ کے ہوں گے۔

کھرب پتیوں کو ٹکٹ دینے والے غریبوں کے ہمدرد نہیں ہو سکتے۔ ووٹرز سابقہ حکمران جماعتوں کے امیدواروں سے پچھلے پانچ سال کا حساب اور جواب مانگیں۔ عوام نے جگہ جگہ فصلی سیاستدانوں کی درگت بنانا شروع کر دی ہے۔ باغی راہنماؤں نے بڑی جماعتوں کے پول کھول دیئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنی اتحاد کونسل کے الیکشن سیل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ موروثی سیاستدانوں کی نئی کھیپ تیار ہو گئی ہے۔ قوم ووٹ کی طاقت سے اپنی تقدیر بدلنے کا موقع ضائع نہ کرے۔ الیکشن کو پیسے کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔ کرپٹ مافیا پیسے کے زور پر الیکشن خریدنے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔ ووٹرز میرٹ پر ووٹ دے کر دیانتدار اور باصلاحیت نمائندے منتخب کریں۔ متوسط طبقے کے نمائندے پارلیمنٹ میں پہنچیں گے تو اسمبلیوں میں عام آدمی کی بات ہو گی۔

کھرب پتی امیدوار غریب اور محروم طبقات کے مسائل کو نہیں سمجھ سکتے۔ قوم چہروں نہیں نظام کی تبدیلی چاہتی ہے۔ الیکشن میں غلامان رسول غلامان امریکہ کو شکست دیں گے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہر ووٹر ووٹ جیسی قومی امانت کو کسی اہل کے سپرد کرے۔ دینی و نظریاتی ووٹرز الیکشن میں اہم کردار ادا کریں گے۔ الیکشن کمیشن بعض امیدواروں کی طرف سے پیسے کے بے دریغ استعمال کا نوٹس لے۔ آذادانہ و منصفانہ الیکشن کے لئے نگران حکومتیں اور الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ ملنا افسوسناک ہے۔