ْشانگلہ میں تحریک انصاف کی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات برقرار ، پارٹی دو گروپوں میں تقسیم

منگل جون 21:17

ا لپوری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) شانگلہ میں تحریک انصاف کی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات برقرار ، پارٹی دو گروپوں میں بٹ گئی،،تحریک انصاف کے پارٹی ٹکٹ پر کارکن نالاں ہوکر پہلے گروپ نے احتجاج کیا ،پارٹی فیصلے کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تو دوسرے گروپ نے ڈاکٹر نواز محمود کو ٹکٹ ملنے کی خوشی میں الپوری میں اظہار تشکر ریلی نکالی ،،تحریک انصاف جمہوری جماعت ہے فیصلے پارٹی کے چیئرمین اور پارلیمانی بورڈ کرتے ہیں، تحریک انصاف کے خلاف تقریر کرنے والے خود امیرمقام کے حامی ہے ،ہرپارٹی میں اختلافات ضرور ہوتے ہیں تاہم مین شاہراہوں پر کھلے عام الزامات کی بوچھاڑ کرنا پارٹی رہنماؤں کو زیب نہیں دیتا ، شانگلہ این اے 10 کے ٹکٹ کو متنازعہ نہ بنایا جائے، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی فیصلے کی تائید کرتے ہیں پارلیمانی بورڈ کا فیصلہ شانگلہ میں تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوں کی دلوں کی آواز ہے ، الپوری میں این اے دس کی ٹکٹ پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے یوم تشکر ریلی اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ میں این اے 10 پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ کا فیصلہ میرٹ پر کیا گیا ہے شانگلہ کے تمام پی ٹی آئی ورکرز عمران خان کی فیصلے کی تائید کرتے ہیں شانگلہ بھر کے ورکرز ڈاکٹر نواز محمود کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا عمران خان نے کارکنوں کی دلوں کی آواز بن کر ٹکٹ نواز خان کو جاری کیا ،شانگلہ الپوری میں کچھ لوگوں نے ٹکٹ کو متنازعہ بنانے کے لئے احتجاج کیا اور پارلیمانی بورڈ پر رشوت کا الزام لگایا جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، کچھ لوگ اپنی ناکامیاں چھپانے کے لئے پارٹی ٹکٹ کو متنازعہ بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔

(جاری ہے)

پی ٹی آئی رہنماء فیاض شاہپوری اور دیگر کا کہنا تھاکہ گزشتہ روز الپوری میں پی ٹی آئی کے کچھ کارکنوں نے پارٹی ٹکٹ متنازعہ بنانے کے لئے احتجاج کیا اور پارلیمانی بورڈ پر امیر مقام سے پیسے لینے کی الزام لگایا جوکہ بلکل جھوٹ ہے ہم عمران خان کی اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پارلیمانی بورڈ کے خلاف بولنے والوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں منگل کے روز الپوری پریس کلب میں پی ٹی آئی ورکرز نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس بھی کی جسمیں فیاض شاہپوری کے علاوہ جمالدین خان ،اقبال خان،عمرعلی ،عادل شاہ سمیت پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے کثیر تعداد میںشرکت کی ۔۔