راولپنڈی کا حلقہ این ای62 ، شیخ رشید احمد اور بیرسٹر دانیال تنویر میں معرکہ ہوگا

شیخ رشید کو آبائی حلقہ اور سینئر ترین پارلیمنٹیرین ہونے کے ناطے سیاست میں نو ارد دانیال تنویر پر برتری حاصل پیپلز پارٹی نے شیخ ندیم احمد کو میدان میں اتارا ہے

منگل جون 21:49

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) قومی اسمبلی کے راولپنڈی کے حلقہ این ای62 سے عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد اور ن لیگ کے بیرسٹر دانیال تنویر کے درمیان معرکہ آرائی ہو گی۔ شیخ رشید کو سینئر ترین پارلیمنٹیرین ہونے کے ناطے سیاست میں نو ارد بیرسٹر دانیال تنویر پر برتری، این ای,62 2002ء سے قبل این ای38کہلاتا تھا یہ حلقہ موجودہ 60اور62کو ملا کر ایک ہی حلقہ تھا۔

2002ء میں اسے این ای38سے علیحدہ کر کے این ای55کا نام دیا گیا۔ یہ حلقہ عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید کا آبائی حلقہ ہے۔ 1985ء سے لیکر 2013ء تک شیخ رشید اور اس حلقے سی7بار مرد میدان قرار پائے۔ حلقے کی ٹوٹل آبادی763727ہے اور رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد لگ بھگ4لاکھ ہے۔ اس حلقے میںر اولپنڈی میونسپل کارپوریشن اور چکلالہ کینٹ کے علاقے آتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ٹوٹل شہری ووٹوں پر مشتمل حلقہ چارج نمبر11کی وارڈ1,2,3چارج نمبر12کی 4,5,6چارج نمبر13کی 7,8,9، چارج نمبر14کی10,11,12، چارج نمبر15کی 13,14,15,16چارج نمبر16کی 17,18,19چارج نمبر17کی 20چارج نمبر18کی 23,25,26چارج نمبر20کی 27,28,29چارج نمبر22کی 33,34,35چارج نمبر23کی36,37,38اور چارج نمبر24کی39,40,41ووٹرز پر مشتمل ہے۔

اسحلقے میں وارڈز نمبر17,18,19,20,23,25,26,27,28,29کنٹونمنٹ کی ہیں۔1985کے غیر جماعتی انتخابات میں شیخ رشید احمد نے کامیابی حاصل کی اور کئی بار ممبر قومی اسمبلی بنی1988کے انتخابات میں شیخ رشید احمد اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر حصہ لے رہے تھے ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے جنرل ٹکا خان تھے،شیخ رشید احمد نی73052ووٹ لے کر جنرل ٹکا خان کو شکست دی جنرل نی67665ووٹ لئے ۔

1990 ایک بار پھر ملک میں انتخابات کا سال تھا۔ شیخ رشید احمد اسلامی جمہوری اتحاد کا ٹکٹ لے کر میدان میں اترے۔ چوہدری مشتاق پی ڈی اے کی طرف سے حصہ لے رہے تھے دونوں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ شیخ رشید احمد 78107ووٹ لے کر فاتح رہے ان کے حریف نے 54705ووٹ حاصل کئے۔1993ء کے انتخابات میں کامیابی نے ایک بار پھر شیخ رشید کے قدم چومے۔ ان کے پاس پاکستان مسلم لیگ ن کا ٹکٹ تھا۔

پیپلز پارٹی نے آغا ریاض احمد کو ٹکٹ دیا۔ شیخ رشید احمد نی80758ووٹ لئے جبکہ آغا ریاض الاسلام نی53841ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔1997ء کے انتخابی معرکے میں پاکستان مسلم لیگ نواز ٹکٹ شیخ رشید احمد کو دیا پیپلزپارٹی نے ناہید خان کو دیا شیخ رشید احمد72183ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ناہید خان 24714ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر اور آزاد امیدوار بادشاہ خان آفریدی6228ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔

1999میں مشرف نے نواز حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ نواز شری فکے بہت سارے قریبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ شیخ رشید احمد گومگو کی کیفیت میں تھے۔ انہوں نے نواز شری فکا نہ ہی ساتھ چھوڑا اور نہ ہی دیا۔ 2002ء میں مشرف نے ملک میں انتخابات کروائے۔ نواز لیگ شیخ رشید احمد کو ٹکٹ دینا چاہتی تھی مگر شیخ رشید نے ٹکٹ لینے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہا کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی نواز شریف کو تحفے میں دیں گے۔

2002ء کے انتخابات میں شیخ رشید احمد نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔ آزاد امیدوار کی حیثیت سی40649ووٹ لے کر فاتح ٹھہرے ۔ پیپلز پارٹی نے آغا ریاض الاسلام نی28885ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے جبکہ پی ایم ایل این کے سردار محمد طارق نی14405 ووٹ لئے۔ شیخ رشید پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پلیٹ فارم سے اور ملک عامر فدا پراچہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر حصہ لے رہے تھے۔

پنڈی کے باسیوں نے اب کی بار باہر سے آئے ہوئے امیدوار جاوید ہاشمی کو87465ووٹ لے کر کامیاب کرا دیا۔ ملک عامر فدا پراچہ 37397ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر اور شیخ رشید احمد15780ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ جاوید ہاشمی نے سیٹ چھوڑ دی۔ شیخ رشید احمد نے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے انکا رکر دیا۔ مسلم لیگ ن نے حاجی پرویز کو ٹکٹ دیا اور ضمنی انتخابات میں وہ کامیاب ہوئے۔

2013کے انتخابات میں شیخ رشید احمد اور تحریک انصاف اتحادی کے طور پر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے ملک شکیل احمد اعوان کو ٹکٹ دیا جبکہ پی پی پی نے چوہدری افتخار کو میدان میں اتارا، شیخ رشید احمد88532ووٹ لے کر فاتح ٹھہرے ۔ شکیل اعوان نے 75275ووٹ لئے جبکہ پی پی پی کے چوہدری افتخار احمد6212ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ 2018کے انتخابات میں شیخ رشید اور تحریکا نسآف کیس اتھ اتحادی کے طور پر حصہ لے رہے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن نے سینیٹر چوہدری تنویر کے بیٹے بیرسٹر دانیال تنویر کو ٹکٹ دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے شیخ ندیم احمد کو میدان میں اتارا۔ اس حلقے میں چوہدری تنویر مضبوط ہیں مگر شیخ رشید احمد کو بیرسٹر دانیال تنویر پر سبقت حاصل ہے۔۔