قراقرم یونیورسٹی میں ایک روزہ گول میز کانفرنس برائے ماحولیاتی تبدیلی کامیابی سے اختتام پذیر

یہ محققین کی ذمہ داری ہے کہ اپنی تحقیق کے ذریعے مو سمی تبدیلوں کے اثرات سے عوام کو آگاہ رکھیں ، حافظ حفیظ الرحمن باہمی تعاون کے زریعے سے ہی موسمیاتی تبدیلی کو روکا جاسکتاہے ،مقررین کا خطاب

منگل جون 22:32

گلگت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایک روزہ گول میز کانفرس برائے ماحولیاتی تبدیلی کامیابی سے اختتام پذیر ہو گئی ۔ گول میز کانفرس برائے ماحولیاتی تبدیلی کا اہتمام قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے فیکلٹی آف لائف سا ئنسز نے اپر انڈس بسین ، آئی سی آئی ایم آہ ڈی، پی سی آرڈبلیوآر، جی بی ڈی ایم اے، اے کے اے ایچ کے اشتراک سے کیا گیاتھا۔

گول میز کانفرس کی افتتاحی تقریب ایجوکیشن بلڈنگ میں منعقد ہوئی ۔ جس میں وزیراعلیٰ حافظ الرحمن ، KIU کے وائس چانسلر ڈاکٹر عطا اللہ شاہ، آسٹرلین ہا ئی کمیشنربرائے پاکستان مارگریڈ ایڈسن ، وفاقی سیکرٹری فضل عباس میکن ، صوبائی سپیکرفدا محمد نا شاد، صوبائی ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان، صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹرمحمد اقبال ، سیکریڑی لائیو اسٹاک سجاد حیدو دیگر نجی و سر کاری محکموں کے اعلی سر براہان ، ماہرین مو سمیات، ما ہر تعلیم اور کمینو نٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

کانفرس کے مہمان خصوصی وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الراحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بدلتے ہوئے موسمی حالات کے تناظر میں KIUکا دیگر اداروں کے اشتراک سے اس نوعیت کے پروگرامز سے موافق موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے ماحول کو بچایا سکتاہے۔ یہ محققین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے تحقیق کے زریعے مو سمی تبدیلوں کے اثرات سے عوام الناس کو آگاہ رکھیں ۔

انہوںنے کہاکہ ایسی تحقیق ہونی چائیے جو ثمر آور ہو۔نہ کہ تحقیق کتابوں تک محددو رہے ۔بہترین تحقیقی مقالوں کو حکومتی سطح پراپنی پالسیوں کا حصہ بنائیںگے۔ان سے قبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی سپیکر فدامحمد ناشادنے کہاکہ دنیابھر میں بدلتے موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر جی بی پر بھی پڑ رہاہے ۔ان اثرات میں اضافہ ہونے سے قبل ان کے تدارک کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

اس حوالے سیKIUوہ واحدادارہ ہے جوتحقیق کے زریعے عوام میںشعور بیدار کرسکتاہے ۔ہمیں امیدہے کہKIUنے اس سے قبل بھی گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کیاہے ۔آئندہ بھی اسی کام کو جاری رکھینگے اور سب سے بڑا مسئلہ بدلتے موسمیاتی تبدیلیوںکے روک تھام کے لیے کام کریگی ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے کہاکہ موسمیاتی تغیر و تبدل کے لیے حکومتی ،تعلیمی اور پرائیویٹ اداروں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

باہمی تعاون کے زریعے ہی موسمیاتی تبدیلی سے بچا جاسکتاہے ۔انہوںنے کہاکہ KIUروز اول سے ہی موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر شعبہ زندگی میں تحقیق کو فروغ دے رہیہے ۔انشاء اللہ بہت جلد KIUکو ریسرچ کا حب بنایاجائیگا۔وائس چانسلر نے کہاکہ مختلف سیکٹر میں کام کرنے کے لیے ملکی و بین القوامی اداروں کے ساتھ رابطے مضبوط کرینگے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹرلین ہا ئی کمیشنربرائے پاکستان مارگریڈ ایڈسن نے کہاکہ معاشرتی مسائل کے حل کے لیے عوام میں شعور و بیدار پیدا کرنے میں یونیورسٹی اہم پیلز میں سے ایک ہے۔

یونیورسٹیوں کے زریعے ہی بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پایا جاسکتاہے ۔انہوںنے کہاکہ ریسرچ کو مزیدپروان دینا ہے تاکہ ریسرچ کے زریعے بڑھتے ہوئے مسائل کا پتہ ہو اور بروقت ان کے روک تھام کے لیے اقدامات کئے جائیں ۔انہوںنے کہاکہ آسٹریلین حکومت تحقیق کے شعبہ میں ہرقسم کی امداد و تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ان سے قبل دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحقیق کو جتنا ہو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے ۔ کانفرنس کا مقصدبھی موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے حل تلاش کیاجائے ۔حل تب ممکن ہے جب تحقیق ہو۔لہذا ہم سب کو مل کر تحقیق پر کام کرنے کی انتہائی ضرورت ہے ۔

متعلقہ عنوان :