سی ایم ایک دن کا ہو یا 5سال کا وہ سی ایم ہوتا ہے اور اس کے اختیارات یکساں ہوتے ہیں، نگراں وزیراعلیٰ علائو الدین مری

کیئر ٹیکر وزیر اعلیٰ ہوں،پالیسی نہیں بنا سکتالیکن آنے والی حکومت کو راستہ دکھا سکتا ہوں، افغانستان بارڈر پر باڑھ لگانا شروع کردی ہے،اس سے نہ صرف اسمگلنگ ختم ہوگی،بارڈر محفوظ ہوگا بلکہ قانونی تجارت بڑھے گی اور ملک کو ریونیو ملے گا، ایف پی سی سی آئی میں تاجروں سے خطاب

منگل جون 22:47

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) بلوچستان کے نگراں وزیراعلی علاائولدین مری نے کہا ہے کہ سی ایم ایک دن کا ہو یا 5سال کا وہ سی ایم ہوتا ہے اور اس کے اختیارات یکساں ہوتے ہیں، میں کیئر ٹیکر وزیر اعلی ہوں،پالیسی نہیں بنا سکتالیکن آنے والی حکومت کو راستہ دکھا سکتا ہوں،ہم نے افغانستان بارڈر پر باڑھ لگانا شروع کردی ہے جس سے نہ صرف اسمگلنگ ختم ہوگی،بارڈر محفوظ ہوگا بلکہ قانونی تجارت بڑھے گی اور ملک کو ریونیو ملے گا، افغانستان اور سینٹرل ایشیا کی مارکیٹیں ہمارے لئے بہتر ثابت ہوسکتی ہیں،کچلاگ کے قریب بوستان صنعتی زون کا افتتاح آئندہ ہفتے ہوگا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)کے دورے کے موقع پر تاجروں سے خطاب کے دوران کہی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر فیڈریشن کے صدر غضنفربلور،سینئرنائب صدرمظہراے ناصر،نائب صدرطارق حلیم،سابق نائب صدورحنیف گوہر،انجینئرداروخان،فیصل دشتی،مریم چوہدری،مسٹر چین باژینگ،شوکت پوپلزئی اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔

نگراں وزیراعلی بلوچستان علاالدین مری نے کہا کہ گوادر ایک بہترین بزنس حب ہے، بلوچستان کے خزانے کی چابی بزنس کمیونٹی کے پاس ہے،،بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، ہم نے کوئٹہ چیمبر کو ایکسپو سینٹر کے قیام کیلئی35ایکڑزمین دی ہے اور یہ اللہ کے بعدآپ کی زمین ہے اس لئے جتنی چاہئے زمین ملے گی،ایف پی سی سی آئی کو بھی زمین دیں گے کیونکہملک کی اکانومی میں بزنس کمیونٹی کا بہت بڑا کردار ہے،۔

تاجروں کی جانب سے گوادر میں زمین کے سوال پرنگراں وزیراعلی بلوچستان کاکہنا تھا کہ وہا ںصنعتوں کے قیام کیلئے جو زمینیں دی گئی ہیں وہاں فورا انڈسٹری قائم کی جائے ورنہ ان زمینوں کی رجسٹریشن منسوخ کردی جائے گی ۔انکا کہنا تھا کہ بلوچستان کی صورتحال تبدیل نہیں ہوئی، اسکول ،کالجز اورہسپتال کی صورتحال ابتر ہے، بلوچستان میںگوادر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے اہم ہے،،بلوچستان کے لوگ غریب لیکن وہاں کی زمین اور سمندر غریب نہیں ہیں۔

دنیا میں اسلحہ کی جنگ ختم ہوگئی ہے اور اب معاشی جنگ جاری ہے،آبادی کے لحاظ سے سب سے کم آبادی والا صوبہ بلوچستان ہے لیکن رقبے کے لحاظ سے وسیع ہے مگر این ایف سی ایواڈ میں بلوچستان کا حصہ بہت کم ہے ، ایف ڈبلیو او اور چائینیز کے ساتھ دو پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں، ایک پروجیکٹ کول پاور پراجیکٹ کا ہے جو چائنہ کے تعاون سے جاری ہے، میں بیج ڈال دوں گا اب آگے کا کام ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان میں پیدا ہونے یا رہنے والا کوئی بلوچی، پنجابی،پٹھان،سندھی یا اردو بولنے والا نہیں بلکہ صرف پاکستانی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ صاف شفاف الیکشن کرانے میں الیکشن کمیشن کی مدد کروں ۔فیڈریشن کے صدر غضنفر بلور اور سینئرنائب صدرمظہراے ناصرنے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے اور اگر ان وسائل کا درست استعمال کیا جائے تو بلوچستان میں بے پناہ ترقی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ گوادر میں فیڈریشن چیمبر کا آفس قائم کیا جائے گا جس کیلئے ہمیں چائنا نے ایک ایکڑ زمین دی ہے اور اس زمین پر فیڈریشن کی بلڈنگ تعمیر کریں گے،،بلوچستان حکومت بھی ایف پی سی سی آئی کے ساتھ تعاون کرے۔نائب صدر طارق حلیم نے کہا کہ گوادر میں شپنگ سیکٹر کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے حکومت بلوچستان مدد کرے۔انجینئرداروخان نے کہا کہ بلوچستان کا بورڈ آف انویسٹمنٹ نجی شعبے کے حوالے کیا جائے۔مریم چوہدری نے کہا کہ چمن میں افغان اور ایران بارڈر پر بھی واہگہ بارڈر کی طرز پر پرچم لہرانے کی تقریب منعقد کی جائے تاکہ وہاں سیاحت کو فروغ مل سکے۔