سٹی کونسل کے اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کامالی سال 2018-19 ء کا27 ارب 16کروڑ 4 لاکھ 68 ہزار روپے کا بجٹ اتفاق رائے سے منظور کرلیا

آئندہ مالی سال کے بجٹ کو متوازن اور حقیقت پسندانہ بنانے کے لئے غیرترقیاتی اخراجات کو بڑھنے سے بچایا ہے، میئر کراچی وسیم اختر

منگل جون 22:50

سٹی کونسل کے اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کامالی سال 2018-19 ء کا27 ارب 16کروڑ ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) سٹی کونسل کے اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کامالی سال 2018-19 ء کا27 ارب 16کروڑ 4 لاکھ 68 ہزار روپے کا بجٹ اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا اور میئر کراچی وسیم اختر نے کونسل میں بجٹ پیش کیا،اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن ، مشیر مالیات ڈاکٹر اصغر عباس شیخ بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کو متوازن اور حقیقت پسندانہ بنانے کے لئے غیرترقیاتی اخراجات کو بڑھنے سے بچایا ہے اور زیادہ توجہ ترقیاتی فنڈز پر رکھی ہے۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کا مالی سال 2018-19 کا بجٹ ان تمام مسائل کا احاطہ کرے گا جن کی وجہ سے کراچی کے شہری ایک طویل عرصے سے مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی مالی حالت میں بہتری لانے اور شہر کے مسائل جلد از جلد حل کرنے میں موجودہ بجٹ سے مدد مل سکتی ہے لہٰذا ہماری ہرممکن کوشش رہی کہ اس بجٹ کو حقیقت پسندانہ اور متوازن بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری اور عوامی خدمات کی فراہمی میں کلیدی کردار کا حامل سمجھا جاتاہے لہٰذا اس حقیقت کے پیش نظر ہم سب کو اس ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہونا ہوگا کہ ہمیں ہر حال میں شہریوں کی خدمت اور شہر کی ترقی کیلئے کام کرنا ہے،،کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے موجودہ بلدیاتی قیادت نے جو اقدامات اور کوششیں کیں ان کے ثمرات شہریوں کو ملنا شروع ہوگئے ہیں جو ہمارے لئے باعث اطمینان ہے لیکن اس کے باوجود ہم کراچی کے تمام مسائل کے حل تک مسلسل کام کرتے رہیں گے اور ہمیں پوری امید ہے کہ نہ صرف کراچی کے شہری اپنی روزمرہ زندگی میں پہلے سے کہیں زیادہ بہتری محسوس کریں گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شہر کی تعمیر و ترقی میں ہمارا ہاتھ بھی بٹاتے رہیں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2017-18 کے دوران ہم نے چار ارب بتیس کروڑ اکہتر لاکھ روپے کی لاگت سے دو سو چھ (206) اسکیمیں ڈسٹرکٹ ADP کے تحت کراچی کے تمام اضلاع بشمول یونین کونسل کراچی میں مکمل کیں،یونین کونسل ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف اضلاع کی یونین کونسلز میں انفراسٹرکچر کی تعمیر و مرمت و بحالی سمیت مختلف منصوبوں پر ڈسٹرکٹ ADP کے تحت کام کئے گئے جن کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کے ممبران نے سفارش کی تھی، گزشتہ مالی سال کے دوران مکمل کئے جانے والے ترقیاتی کاموں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ شہر میں بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے اور شہر کے ہر علاقے میں مساوی ترقیاتی عمل جاری رہے ،ہم نے دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے اور بہتر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو ہرممکن طور پر متوازن اور حقیقت پسندانہ بنانے کی کوشش کی ہے 2018-19 کیلئے ہمارا بنیادی نظریہ غیر ضروری اخراجات میں کمی اور وسائل کے بہترین استعمال کے ذریعہ اپنے مسائل حل کرنا ہے اور انشاء اللہ ہم اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام مسائل حل کریں گے۔

پرائم منسٹر کراچی پیکیج کے تحت بھی کراچی میں ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا چاہتا ہے جو اس کونسل کی اور ہماری بہت بڑی کامیابی ہے، صوبائی اسمبلی میں ہماری تعداد کم تھی ورنہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں تبدیلی کرالیتے یہ 25 ارب ہماری محنت سے آئے ہیں، پرائم منسٹر کراچی پیکیج کے تحت منگھوپیر روڈ کی جام چاکرو سے بنارس چوک تک از سر نو تعمیر، تخمینی لاگت دو ارب چوالیس کروڑ روپے۔

سخی حسن، فائیو اسٹار اور کے ڈی اے چورنگی پر شیر شاہ سوری روڈ کے ساتھ فلائی اوورز کی تعمیر دو ارب اڑتیس کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ۔نشتر روڈ کی تین ہٹی تا نیپر روڈ از سر نو تعمیر اور منگھو پیر روڈ کی بنارس چوک سے نشتر روڈ تک از سر نو تعمیر تخمینی لاگت ایک ارب نوے کروڑ روپے کے علاوہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں موجودہ فائر فائٹنگ سسٹم کی بحالی / اپ گریڈیشن کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی مختلف ذرائع سے مالیاتی فنڈنگ کے حصول کیلئے تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے اور اس مقصد کے تحت یہ صوبائی حکومت، وفاقی حکومت، عالمی بینک اور نجی شعبے کے مالیاتی نظام سے فنڈز کے حصول کیلئے کوشاں ہے جس سے امید ہے کہ آئندہ چند سالوں میں شہر میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو ترقی ملے گی جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی میں مزید بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 2018-19 ء کے لئے مجوزہ بجٹ میں کل آمدن ستائیس ارب سترہ کروڑ ستانوے ہزار روپے (27,170.097ملین) جبکہ مجموعی اخراجات ستائیس ارب سولہ کروڑ چار لاکھ اڑسٹھ ہزار روپے (27,160.468 ملین) شامل ہیں۔ کل آمدن Current Receipts میں انیس ارب اکیس کروڑ چوراسی لاکھ پچھترہزار روپے (19,218.475ملین) اور Capital Receipts ایک ارب نواسی کروڑ چوبیس لاکھ روپے (1,892.400ملین) ہیں جبکہ فنڈز برائے پراونشل اے ڈی پی ، ڈسٹرکٹ اے ڈی پی چھ ارب پانچ کروڑ بانوے لاکھ بائیس ہزار روپے (6,059.222ملین) ہیں۔

اسی طرح Establishment اخراجات تیرہ ارب اکتیس کروڑ بائیس لاکھ چھیاسی ہزار روپے (13,312.286ملین) اور Contingent ۔ دو ارب گیارہ کروڑ دو لاکھ دس ہزار روپے (2,110.210ملین) بحالی اور مینٹی نینساکیس کروڑ اکہتر لاکھ پینسٹھ ہزار روپے (217.165ملین) جبکہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کا تخمینہ پانچ ارب چھیالیس کروڑ پندرہ لاکھ پچیاسی ہزار روپے (5,461.585ملین) اور پراونشل اے ڈی پی ، ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے لئے چھ ارب پانچ کروڑ بیانوے لاکھ بائیس ہزار روپے (6,059.222ملین) اخراجات کا تخمینہ ہے۔

مالی سال 2018-19 ء کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے اور موجودہ ریونیو ریکوری کو ہی مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔مالی سال 2018-19 ء کے بجٹ میں ڈویلپمنٹ کی مد میں ہم نے ساڑھے گیارہ ہزار ملین روپے سے زائد رقم مختص کی ہے جس میں کے ایم سی فنڈ سے ہم نے تقریباً ساڑھے پانچ ارب روپے اور ڈسٹرکٹ اے ڈی پی اور پراونشل اے ڈی پی کی مد میں تقریباً چھ ارب روپے رکھے گئے ہیں ، مالی سال 2018-19 میں پانچ ارب باسٹھ کروڑ نوے لاکھ روپے کی رقم سے شہر بھر میں ایک سو چورانوے (194) نئی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی۔

یہ ایک صحت مندانہ بجٹ ہے جس میں ہم نے اپنے غیرترقیاتی اخراجات کو کم سے کم سطح پر رکھا ہے اور زیادہ توجہ ترقیاتی فنڈز پر رکھی ہے تاکہ آئندہ مالی سال کے دوران زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کام کرائے جاسکیں۔میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کو اس کا حق دلانے کے لئے عوام میں اپنا کیس لے کر گئے اور عدالتوں سے رجوع کیا، کراچی کے لئے 25 ارب کا ترقیاتی پیکیج ہماری کاوشوں کا نتیجہ ہے، ہم چاہتے تو کراچی پیکیج کا پیسہ کے ایم سی کو دینے کے لئے کہتے مگر مجھے دو ارب کے ٹھیکے دینے کا شوق نہیں، ہمارا مقصد صرف کراچی میں ترقیاتی کام کرانا ہے، عوام کا پیسہ لوگوں کی جیبوں میںجانے کے بجائے صحیح مصرف میں لگنا چاہئے، کراچی کے عوام کو پرائم منسٹر پیکیج سے بہت ریلیف ملے گا، تمام ترقیاتی کاموں کی پی سی 1- منگوالی ہیں ، تمام کاموں کو خود مانیٹر کروں گا، کراچی کے ہر ضلع اور ہر علاقے میں بلاتفریق کام کرائیں گے،یونین کونسلوں کے بجٹ کو 2 لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ کرانے کے لئے لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کو خط لکھیں گے، سابقہ ایڈمنسٹریٹرز اور ایم سیز نے کے ایم سی کا پیسہ واپس لانے میں دلچسپی نہیں لی، مختلف اداروں کے ذمے کے ایم سی کا پیسہ ہمیں مل جائے تو تنخواہوں کی ادائیگی اور واجبات کی ادائیگی کرسکیں گے،انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کونسل کے بعض اراکین نے بجٹ پیش کرنے کے دوران شور شرابا اور بائیکاٹ کا راستہ اختیار کیا حالانکہ اگر وہ پورا بجٹ سن لیتے اور اس کے بعد اپنے اعتراضات پیش کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا، انہوں نے کہا کہ یہ شہر ہم سب کا ہے اور اس کونسل میں بھی ہم سب کی نمائندگی ہے لہٰذا ہمیں اپنے ہر عمل کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ ہمیں اس شہر کا درد ہے اور ہم شہریوں کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کے دور میں کراچی کے مسائل پر کوئی توجہ نہ دی گئی، کراچی کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، سب اس شہر کو نوچنے میں لگے ہوئے تھے، سندھ میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی بیڈ گورننس کی سب سے بڑی مثال ہے، اگر یہ لوگ کام کرتے تو اب تک کراچی بن چکا ہوتا، کھربوں روپیہ وفاق سے سندھ میں آیا، بہت جلد پتہ چل جائے گا کہ سندھ کے بجٹ میں ترقیات کے لئی1500 ارب اور لاڑکانہ کے لئے 90 ارب روپے کہاں گئے، ان لوگوں نے کراچی کے ساتھ مذاق بنایا ہوا ہے، یہ وڈیرے کراچی کے پیسے سے دبئی اور شارجہ میں مزے کر رہے ہیںاور کراچی کو لوٹ لوٹ کر اس کا برا حال کردیا ہے، کراچی نہ سہی لاڑکانہ ، سہون یا تھر کو ہی بنا لیتے مگر ان لوگوں نے کچھ نہیں کیا، اس موقع پر کے ایم سی کونسل کے ارکان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مشکل حالات میں ایک بہترین بجٹ پیش کرنے پر میئر کراچی وسیم اختر کو مبارکباد پیش کی، کونسل ارکان نے اپنے علاقے میں لوگوں کو درپیش مسائل سے بھی میئر کراچی کو آگاہ کیا اور یونین کونسل کے فنڈز اضافے کی درخواست کی، میئر کراچی وسیم اختر نے انہیں یقین دلایا کہ یوسی چیئرمین ہمارے لئے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کے تمام مثبت تجاویز پر غور کیا جائے گا اور تمام علاقوں میں لوگوں کو درپیش مسائل کے جلد از جلد حل کے لئے کوششیں کی جائیں گی، ہم سب کی کوششوں سے بہت جلد کراچی کے مسائل حل ہوں گے اور یہ شہر ترقی کی طرف گامزن ہوگا۔