جماعت اسلامی کے صوبائی وضلع کوئٹہ کے ذمہ داران اور انتخابی بورڈ وبرادرتنظیموں کے سربراہان کا اعلیٰ سطحی اجلاس

ایم ایم اے کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے مشاورت ،کوئٹہ وجنوبی اضلاع میں ایم ایم اے کی طرف سے مطلوبہ سیٹیں خوش اسلوبی سے نہ ملنے پر اظہار تشویش

منگل جون 22:55

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی وضلع کوئٹہ کے ذمہ داران اور انتخابی بورڈ وبرادرتنظیموں کے سربراہان کا اعلیٰ سطحی اجلاس صوبائی سیکرٹریٹ میں زیر صدار ت صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی منعقدہوا اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ ،نائب امراء ڈاکٹر محمدابراہیم،زاہداختر بلوچ ،بشیر احمدماندائی ،ڈپٹی جنرل سیکرٹریزمولانامحمد عارف دمڑ،مولانا عبدالحمید منصوری،افتخاراحمدکاکڑ،ڈاکٹرعطاء الرحمان ،،کوئٹہ کے امیر مولاناعبدالکبیر شاکر،اسلامی جمعیت طلبہ کے صوبائی ناظم مرتضیٰ خان کاکڑ،جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر جمیل احمدمشوانی ،الخدمت فائونڈیشن کوئٹہ کے صدر ڈاکٹرنعمت اللہ ،حافظ نورعلی ،پروفیسر مولانا عبدالخالق مندوخیل،محمد حلیم حماس ،،عبدالولی خان شاکر نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ایم ایم اے کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے مشاورت ہوئی اور کوئٹہ وجنوبی اضلاع میں ایم ایم اے کی طرف سے مطلوبہ سیٹیں خوش اسلوبی سے نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اس سلسلے میں مذاکرات جاری رکھنے ,بے چینی ختم کرنے سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا گیا اعلیٰ سطحی ذمہ داران اجلاس میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ایم ایم اے کے صوبائی پارلیمانی بورڈ کے متفقہ فیصلے کے مطابق پی بی 47کیچ تربت،پی بی 49حب سمیت کچھ دیگرسیٹیں جماعت اسلامی کو ملی تھی مگر متحدہ مجلس عمل کے ممبر جماعتوں سے مشاورت کیے اور اعتماد میں لیے بغیر منظور شدہ نام بدل کر دوسرے نام لکھے گیے ہیں۔

ایم ایم اے کے ایک جماعت کی طرف سے اس نارواوغلط اقدام پر اپنا حقِ اختلاف محفوظ رکھتے ہیں اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے کہ جماعت اسلامی کوملنے والی مذکورہ سیٹس پر ہم اپنا امیدواروں کو دستبردار کراسکے۔اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کے صوبائی صدر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبائی پارلیمانی بورڈ کے فیصلے کے مطابق جماعت اسلامی کو ملنے والی سیٹس پرنام تبدیل نہ کریں اور یہ سیٹس متفقہ فیصلے کے مطابق جماعت اسلامی کود ے دیے جائیں بصورت جماعت اسلامی ان سیٹوں پر اپنا امیدوار دستبردار نہیں کریگی ۔

اجلاس میں بے چینی دور کرنے کی حکمت عملی و مختلف آپشنزپرگفتگو ہوئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایم ایم اے کی طرف سے جتنے بھی معاہدے ،،مذاکرات وفیصلے کیے جائیں اس میں علاقائی کی شرکت لازمی ہو ایک جماعت کی طرف سے فیصلے ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے ظاہر نہ کیے جائیں اور نہ اس سلسلے میں ایم ایم اے کانام استعمال کیا جائے بصورت دیگر ممبر جماعتوں کے ذمہ داران وکارکنان میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ایم ایم اے کا پلیٹ فارم جے یو آئی اپنی مفادات کیلئے بغیر کسی مشاورت کے استعمال کر رہاہے جو اتحاد ویکجہتی کیلئے مناسب نہیں ۔