کراچی میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 65 نشستوں کیلئے 341 امیدوار آمنے سامنے، خواتین کی تعداد 16

متحدہ مجلس عمل، سنی تحریک اور مجلس وحدت مسلمین کے امیدواروں میں ایک بھی خاتون شامل نہیں

منگل جون 23:08

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) کراچی میں اب تک 9 جماعتوں نے قومی اور سندھ اسمبلی کی 65 نشستوں کے لئے مجموعی طور پر 341 امیدواروں کا اعلان کردیا ہے جن میں خواتین کی تعداد صرف 16ہے۔ متحدہ مجلس عمل، سنی تحریک اور مجلس وحدت مسلمین کے امیدواروں میں ایک بھی خاتون شامل نہیں۔ اے این پی کے پلیٹ فارم سے کراچی میں پہلی مرتبہ ایک مسیحی خاتوں سمیت 5 خواتین عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کراچی میں قومی اسمبلی کی21 نشستوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کرچکی ہے جن میں2 خواتین شامل ہیں۔ سابق ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کو عمران خان کے مقابلے کے لئے این اے 243 میں میدان میں اتارا گیا ہے جبکہ ضلع غربی کی نشست این اے 252 پر شاہدہ رحمانی تیرکے نشان کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیں گی۔

(جاری ہے)

شہر قائد میں سندھ اسبلی کی 44 نشستوں پر پیپلز پارٹی نے ابھی 40 امیدواروں کا اعلان کیا ہے ان امیدواروں میں صرف 2 خواتین ہیں، گل رعنا پی ایس 94 جبکہ پی ایس 95 پر رافیہ عباسی پی پی کی امیدوار ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے کراچی میں قومی اسمبلی کی 13 نشستوں پر امیدوار موجود ہیں جن میں3 خواتین کو بھی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے ان میں شازیہ مروت این ای244، ثمینہ ہما میر 245 اور مسیحی خاتون صوفیہ یعقوب این ای256 سے الیکشن میں حصہ لیں گی۔ اے این پی نے نہ صرف خواتین بلکہ پہلی مرتبہ جنرل نشست پر مسیحی خاتون کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ اس طرح کراچی میں سندھ اسمبلی کی44 نشستوں میں سے اے این پی کے 30 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں2 خواتین شامل ہیں، معصومہ ترین کو پی ایس 103 جبکہ صاعقہ نور کو پی ایس87 سے ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف نے کراچی میں قومی اسمبلی کی17 اور سندھ اسمبلی کی31 نشستوں پر امیدواروں کا اعلان کیا ہے مگر بلے کے نشان پر قومی اسمبلی کی ایک سیٹ پر بھی کوئی خاتون موجود نہیں ہے البتہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 128پر صرف ایک خاتون امیدوار نصرت انوار کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔