منشیات کے استعمال کی بڑی وجوہات میں مایوسی ، اکیلا پن ، تربیت کا فقدان ، طبقاتی ماحول شامل ہے ،ڈاکٹر آصف علی

منگل جون 23:23

ملتان ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) پوری دنیا میں منشیات کا کاروبار اسلحے کے غیر قانونی کاروبار کے بعد دوسرا بڑا غیر قانونی کاروبار ہے ۔ پاکستان میں کچھ عرصہ پہلے سینٹ میں پیش کی جانے والے ریکارڈ کے مطابق 67لاکھ سے زائد لوگ نشے کی لت میں مبتلا ہیںیہ وہ لوگ ہیں جو کہ رپورٹ میں جو لوگ رپورٹ نہیں ہوئے وہ اس لسٹ میں نہیں ہیں ۔ منشیات کے استعمال کی بڑی وجوہات میں مایوسی ، اکیلا پن ، تربیت کا فقدان ، طبقاتی ماحول وغیرہ شامل ہے یہ باتیں منشیات کے استعمال اوراس کے غیر قانونی کاروبار کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں کہیں ۔

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں یوم انسداد منشیات کے عالمی دن کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔

(جاری ہے)

سیمینار کے انعقاد کا بنیادی مقصد معاشرے میں اور خصوصاً نوجوان نسل میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ختم کرنا تھا ۔ آگاہی سیمینار کی صدارت وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کی جبکہ سیمینار میں انٹی نارکوٹکس فورس اور سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔

آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انٹی نارکوٹکس فورس کی انسپکٹر مس نادیہ نے کہا کہ منشیات کا کاروبار غیر قانونی ہے جس کی روک تھام کیلئے نارکوٹکس فورس کا قیام عمل میں آیا ہے ۔ آگاہی سیمینار سے ڈاکٹر عمر فاروق ، سنیئر ٹیوٹر عثمان جمشید ، ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئر ڈاکٹر مرزا عبدالقیوم ، ڈاکٹر سرمد فروغ نے بھی خطاب کیا اور منشیات کے استعمال سے ہونے والے مہلک نقصانات کے بارے میں طلبا ء و طالبات کو آگاہ کیا ۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید ، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ ، ڈاکٹر ناصر ندیم ، ڈاکٹر عمر اعجاز ، ڈاکٹر شاہد ، ڈاکٹر شمس مرتضا سمیت فیکلٹی اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔