اشرف صحرائی کی طرف سے حریت رہنمائوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت

بدھ جون 11:42

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2018ء) سینئر حریت رہنما اور تحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے بھارتی فورسز کی طرف سے بڑی تعداد میںحریت رہنمائوں اور کارکنوں کی مسلسل بلا جوازنظربندی اور ان کی تیزی سے گرتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے خاص طورپر وادی کشمیر میں آئے روز گرفتاریاں معمول بن چکا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ قابض انتظامیہ رہائی کے عدالتی احکامات کے باوجود کشمیری نظربندوں کو رہاکرنے کی بجائے ان کی نظربندی کو طول دینے کیلئے انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے ان پر دوبارہ کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کردیتی ہے۔ حریت رہنمائوں مسرت عالم بٹ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج لدین، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، محمد یوسف فلاحی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ظہور احمد وٹالی، شاہد یوسف، فاروق احمد ڈار، محمد یوسف میر، ظفرالاسلام، معشوق احمد بٹ، شوکت احمد میر، امیر حمزہ شاہ، امتیاز احمد میر، مشتاق احمد گنائی اور دیگر کی طویل عرصے سے مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوںنے واضح کہاکہ ان آزادی پسند رہنمائوں کو کشمیریوں کی حق پر مبنی پر امن جدوجہد آزادی جار ی رکھنے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

محمد اشرف صحرائی نے غیر قانونی طورپر نظربندتمام حریت رہنمائوں ، کارکنوں اور نوجوانوںکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔انہوںنے واضح کیاکہ بھارت طاقت کے بل پر کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کمزور نہیں کرسکتا اور اسے کشمیریوں کا ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوںنے کشمیری شہداء کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور انکے مشن کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے میں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

تحریک حریت کے چیئرمین نے کہا کہ بھارت بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی کے ذریعے مقبوضہ علاقے میںمسلسل نہتے کشمیریوں کی نسل کشیُ کررہا ہے ۔ حریت رہنما نے کہاکہ جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔